مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانوی پابندی کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کو نشانہ بنا لیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے برطانوی فیصلے کو "غلط اور خطرناک” قرار دیا، مگر اس کی ذمہ داری نیتن یاہو حکومت پر عائد کی، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام ایسے فیصلوں کو روکنا ہے، دھمکیاں دینا نہیں۔ ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کریو نے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے جوابی اقدامات کو "بچکانہ اور عوام پسندانہ” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ساعر وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے انتہا پسند ایجنڈے کے سامنے جھک گئے ہیں اور لیکود میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کریو نے لندن میں کئی ماہ سے اسرائیلی سفیر کی عدم موجودگی کو بھی حکومتی غفلت کا ثبوت قرار دیا۔
برطانیہ نے بستیوں کی تعمیر میں سہولت کار کمپنیوں پر پابندیاں اور قبضے میں معاونت کرنے والے ہتھیاروں کے نئے لائسنس مسترد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اسرائیل نے جوابی طور پر برطانوی قونصل خانہ بند کرنے، غزہ رابطہ مرکز سے برطانوی نمائندے نکالنے اور ۱۲ برطانوی شخصیات پر پابندی کا اعلان کیا۔ اسرائیلی حقوق تنظیموں اور سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے برطانوی اقدام کی حمایت کی۔ فلسطینی ادارے کے مطابق نیتن یاہو حکومت کے دورِ اقتدار میں ۱۰۴ نئی بستیوں کی منظوری دی گئی، جبکہ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں آبادکاروں کے ۳۴۸۸ حملوں میں ۱۷ فلسطینی ہلاک ہوئے۔

