پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر دیے

IMG 20260602 WA1601


کراچی، — معاشی غیر یقینی اور علاقائی تناؤ کے باعث پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو ملتوی کر رہی ہیں۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے تازہ ترین بیزنیس کانفیڈنس انڈیکس (BCI) سروے کے مطابق مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کم ہو کر اب بھی مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے۔
سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مینوفیکچرنگ، سروسز اور ریٹیل شعبوں میں 70 سے 80 فیصد کاروباری اداروں نے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر دیے ہیں یا نظرثانی کر رہے ہیں۔ سروسز سیکٹر میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی جہاں انڈیکس 20 پوائنٹس کم ہوا، جبکہ مینوفیکچرنگ میں 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
او آئی سی سی آئی کے صدر محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن اور توانائی کی بلند قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
سروے کے اہم نکات:
مجموعی کاروباری اعتماد: مثبت 13% (پچھلے سروے میں 22% تھا)
نئی سرمایہ کاری میں بڑی تاخیر
کاروباری اداروں کی جانب سے معاشی عدم استحکام اور علاقائی خطرات کو اہم وجہ قرار دیا گیا
یہ کمی 2025 کے آخر میں بہتر ہونے والے اعتماد کے بعد سامنے آئی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی دباؤ اور گھریلو چیلنجز پاکستان کی معاشی بحالی کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت کو ڈھانچہ جاتی اصلاحات، سستی توانائی اور سیاسی استحکام پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ رپورٹ OICCI کے تازہ ترین سروے (Wave 29) پر مبنی ہے۔

متعلقہ پوسٹ