بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالرشپ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس نہ آنے والے سکالرز اور ان کے ضامنوں سے 9 کروڑ 15 لاکھ 65 ہزار روپےکے سرکاری اخراجات کی وصولی کے لیے جامعہ بلوچستان کو قانونی کارروائی کی ہدایت کر دی۔
کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو ہوا، جس میں جامعہ بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ بیرون ملک موجود ایسے سکالرز کی واپسی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، نادرا اور وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ اس عمل میں چیف سیکریٹری بلوچستان کا تعاون بھی حاصل کیا جائے۔
بلوچستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر خان ترین کی صدارت میں ہوا، جس میں جامعہ بلوچستان کے مالی و انتظامی امور سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سکالرشپس پر بیرون ملک جانے والے فیکلٹی ممبران کی واپسی نہ ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے اپنی سابقہ ہدایات بالخصوص 7 مارچ 2023 اور 7 اگست 2019 کے فیصلوں کی روشنی میں جامعہ بلوچستان کو متعلقہ اداروں سے رابطے کرکے سکالرز کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمیٹی نے کہا کہ جو سکالرز واپس نہیں آئے، ان سے یا ان کے ضامنوں سے سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی رقم کی وصولی کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وائس چانسلر نے کمیٹی کو بتایا کہ ایسے سکالرز کی واپسی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطے کیے گئے ہیں اور مختلف مقامات پر کوششیں جاری ہیں جبکہ بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بعض کیسز میں سکالر اور ضامن کے درمیان قریبی خونی رشتہ موجود ہے۔ اس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ بیرون ملک سکالرشپس کے لیے کسی مستفید ہونے والے فرد کا قریبی خونی رشتہ دار ضامن مقرر نہ کیا جائے تاکہ سرکاری رقم کے تحفظ اور وصولی کا مؤثر نظام یقینی بنایا جاسکے۔
کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے فیکلٹی ممبران کو سکالر شپس دینے کے حوالے سے شفاف، میرٹ پر مبنی اور جوابدہ نظام وضع کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ سرکاری وسائل کا مؤثر اور شفاف استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
ریکارڈ کی عدم فراہمی پر بھی اظہارِ تشویش
اجلاس میں جامعہ بلوچستان کی جانب سے ایک سال سے زائد عرصے سے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہ کیے جانے پر بھی کمیٹی نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ ریکارڈ گذشتہ ایک سال سے فراہم نہیں کیا گیا تو اسے صرف ایک ہفتے میں مکمل طور پر فراہم کرنے کے دعوے پر مؤثر پیش رفت اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
کمیٹی نے جامعہ انتظامیہ کو متعلقہ امور میں پیش رفت یقینی بنانے اور آڈٹ حکام کو مکمل ریکارڈ اور پیش رفت کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق معاملات پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔

