یمنی فوج نے حوثی باغیوں سے باب المندب کا جزیرہ واپس لینے کی تیاری کر لی

news 1789136007 3679


(ویب ڈیسک) یمن کی حکومت کی فوج نے باب المندب کے دہانے پر واقع سٹریٹیجک جزیرے پرم پر حوثی باغیوں کے قبضہ کے بعد جوابی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر لی۔  اس دوران ہی سعودی عرب کی ایک اہم آئل پائپ لائن ڈیمیج ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں جن پر سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ آج یہ بھی سامنے آیا ہے کہ باب المندب کے دہانے پر اہم سٹریٹیجک جزیرے پر قبضہ کرنے میں پاسداران انقلاب نے حوثی باغیوں کی براہ راست مدد کی۔ 

ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ یمنی حکومتی فورسز نے جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
یمنی حکومتی افواج نے جمعہ کے روز  اشارہ دیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اس ہفتے حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے بجلی کی چمک سے کی گئی کارروائی میں ان علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کریں گے۔

 اس سے پہلے آنے والی خبروں میں بتایا گیا کہ  یمن کے ایران سے منسلک حوثی جمعہ کو آبنائے باب المندب میں واقع تزویراتی جزیرے پریم تک پہنچ گئے، یمنی حکومت کے چار ذرائع نے  ایک انترنیشنل نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایک اہم عالمی جہاز رانی کے راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔
قبل ازیں، سعودی عرب کی حمایت یافتہ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے دو  ذرائع نے تصدیق کی تھی  کہ اس کی افواج جزیرہ  پرم سے  انخلاء کر چکی ہیں اور حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی قصبے ذوباب کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جو جزیرہ پریم کے سامنے واقع ہے۔

ایران کی امریکہ کے ساتھ کشمکش میں اہم سٹریٹیجک کامیابی

یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر حوثی آبنائے باب المندب پر ​​کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، جو آبنائے ہرمز سے جزیرہ نما عرب کے مخالف سمت میں بحیرہ احمر میں واقع ہے، تو یہ ان کے  سرپرست ایران کو امریکہ کے ساتھ جنگ ​​میں ایک اہم فائدہ دے سکتا ہے، دوسرے بڑے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے سپلائی کم کر کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سعودی عرب، دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر ہے۔آبنائے ہرمز پر تو  بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات کا انحصار ہے لیکن سعودی عرب اپنی آئل اکسپورٹس کیلئے  بحیرہ احمر کے راستے پر انحصار کرتا ہے جب سے ایران تنازعہ نے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا تھا،  متحدہ عرب امارات اور کویت بحرین کی آئل ایکسپورٹس زیادہ متاثر ہوئی تھیں جب کہ سعودی عرب کی آئل ایکسپورٹس بیشتر بلارو ک ٹوک جاری رہی تھیں۔ ہرمز کے ذریعہ کہا جاتا ہے کہ  عالمی آئل مارکیٹ کو ٹوٹل ڈیمانڈ کا  پانچواں حصہ جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا: یمن کی انصار اللہ تنظیم کا دعویٰ 

 ہرمز کی بندش سے انترنیشل مارکیٹ کو آئل سپلائی ڈسترپٹ ہوئی تو کروڈ آئل کی قیمتیں بڑھ کر دو گنا تک پہنچ گئیں، لیکن اس دوران سعودی عرب سے کروڈ آئل کی سپلائی بہرحال جاری رہی۔ اب باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول بڑھتے بڑھتے خطرناک حد تک مستحکم ہو جانے سے سعودی عرب کی کروڈ آئل کی انترنیشنل مارکیٹ میں آمد کو سخت چیلنج درپیش ہے۔ کیونکہ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ سعودی عرب عملاً حالت جنگ میں ہے۔

سعودی عرب کی اہم پائپ لائن ڈیمیج ہونے کی خبریں

ایک سیٹلائٹ فوٹو جمعہ کے روز سامنے آئی ہے جس میں سعودی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کے اوپر دھواں نظر آ رہا ہے۔
 سعودی عرب کے لیے ایک اور اہم پیش رفت میں، سیٹلائٹ کی تصویروں میں جمعرات کو سعودی عرب کی مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کے آس پاس دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ یہ پائپ لائن مملکت کے لیے ہرمز کو نظر انداز کر کے اپنی خام تل کی برآمدات کو جاری رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

سعودی عرب کی خاموشی
سعودی عرب کی جانب سے علاقے میں کسی بھی واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور سرکاری تیل کی بڑی کمپنی آرامکو نے فوری طور پر رائٹرز کے ذریعے تصدیق شدہ تصویر میں نظر آنے والے دھوئیں پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

news 1789136015 3615
Caption  اس  سیٹلائٹ تصویر میں 10 ستمبر 2026 کو مدینہ، حجاز ریجن، سعودی عرب کے جنوب میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کے ایک علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ 

آرامکو سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے بحیرہ احمر تک خام تیل کے بہاؤ کو بڑھانے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال کرتی  ہے جب چھ ماہ قبل جب  ایران پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے شروع ہوئے تھے،  تو اسی روز  سے تہران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کرنے کا  آغاز کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے آرامکو کی اس پائپ لائن کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔

باب المندب پر دباؤ؛ سعودی عرب کی کروڈ آئل سپلائی اگست میں ہی ایک چوتھائی کم ہو گئی تھی

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے جمعہ کے روز  انکشاف کیا  کہ سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی اگست کے مہینے میں 2.3 ملین بیرل یومیہ گر کر 6 ملین بیرل پر آگئی، جو تین دہائیوں سے زیادہ کی کم ترین سطح ہے، جس کی ایک وجہ یمن کے حوثیوں سے منسلک گروپوں کی جانب سے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا ہے۔
مئی کے وسط کے بعد پہلی بار تیل کی عالمی قیمتیں ہفتے کے اختتام پر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہونے کی راہ پر تھیں، حالانکہ وہ جمعے کو قدرے کم تھیں جب فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی معاہدے پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ روز 11 سے گر کر جمعرات کو سات پر آگئی،   اعداد و شمار نے جمعہ کو دکھایا کہ جو 10 دن کی اوسط 10 سے بہت کم ہے۔

یمنی فوج کی جوابی کارروائی کرنے کی تیاری

نیمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی حکومت کی فوج کے سینئیر افسر نے جمعہ کے روز  اعلان کیا کہ وہ  سٹریٹجک علاقوں میں "دہشت گرد” حوثی ملیشیا کی کسی بھی نقل و حرکت کو ختم کرنے کے لیے ہتھیار اور طیارے تعینات کریں گے، جس میں ساحلی شہر موچا کی طرف جانے والی سڑک بھی شامل ہے، جس پر عسکریت پسند گروپ نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے جزیروں کے ساتھ ہنیش پر قبضہ کیا تھا۔
یمن کی فوج کے  ترجمان کرنل ماجد النازیلی نے شہریوں  کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعز اور موچا شہر کے درمیان کا راستہ استعمال کرنے سے گریز کریں اور یمن کی خانہ جنگی کے دوران تباہ کن سعودی فضائی حملوں کا سامنا کرنے والے پہاڑی جنگجو حوثیوں کے سامان سے گریز کریں۔

 باب المندب کی حالیہ ڈیویلپمنٹ سے پہلے یمن کی مین لینڈ میں حکومتی فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف بڑا زمینی اوفیسیو شروع کر رکھا ہے جس کے دوران زمینی فورسز کی بڑے پیمانہ پر کارروائیوں کے ساتھ ائیر سٹرائیکس بھی کی جا رہی ہیں۔  س اس اوفینسیو کے دوران حوثی باغیوں کے کئی سٹرونگ ہولڈز پر حکومتی فورسز کے قبضہ کی اطلاعات بھی آئیں۔ 

پاسداران انقلاب نے حوثی باغیوں کی براہ راست مدد کی

نیوز ایجنسی رائٹرز نے یہ  اطلاع دی ہے کہ یمنی حکومت، ایرانی اور علاقائی ذرائع کے مطابق، اس ہفتے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی ڈرامائی پیش قدمی ایران کے پاسداران انقلاب کی براہ راست رہنمائی کے ساتھ ہوئی ہے جو کہ امریکہ کے ساتھ تہران کی جنگ میں ایک نیا محاذ کھولنا چاہتے ہیں۔
دو ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں سے کہا کہ وہ سعودی عرب پر اپنے حملے تیز کریں، جو کہ امریکہ کے ایک قریبی اتحادی ہے، اور ایسا کرنے میں ان کی مدد کے لیے مزید فنڈز، ہتھیاروں اور سینئر افسران کا وعدہ کیا ہے۔
اگرچہ ایران حوثیوں کو ایک اتحادی تسلیم کرتا ہے، لیکن اس نے عوامی طور پر انہیں فوجی ہدایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ "پراکسی نہیں ہیں”۔

صدر ٹرمپ حوثیوں کے خلاف کارروانی کرنے کے موڈ میں نہیں

آج جمعہ کے روز نیوز ویب سائیٹ ایکسئیس نے یہ خبر شائع کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے حوثیوں پر بمباری کی سعودی کال کو مسترد کر دیا ہے۔  ایکسئیس نے سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی دو فون کالوں کا حوالہ دیا اور ایک حکومتی عہدیدار کو یہ کہتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کوئی نیا محاذ کھولنے نہیں جا رہے۔ 
سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا ہے لیکن اس دوران ہی اس گروپ نے سٹریٹجک علاقوں پر قبضہ  کر لیا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو بار فون کیا۔ ان فون کالز میں کیا گفتگو ہوئی اس کے متعلق ایکسئیس کی رپورٹ میں  کہا گیا کہ موضوع باب المندب کی نئی صورتحال ہی تھی۔ ایکسئیس نے امریکی حکومت کے کسی عہدیدار کا نام ظاہر کئے بغیر بتایا کہ امریکہ حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کرنے نہیں جا رہا البتہ امریکہ سعودی عرب کو ضروری انتیلی جنس سپورٹ فراہم کرے گا۔ 





Source link

متعلقہ پوسٹ