نیویارک،
شہزادی ڈائنا کا مشہور سیاہ لباس، جسے ’ریونج ڈریس‘ کے نام سے دنیا بھر میں شہرت ملی، ایک بار پھر خبروں میں ہے اور نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ نیویارک میں نیلامی سے قبل اسے لندن، ہانگ کانگ اور جنیوا میں ڈسپلے کیا جائے گا۔ 1994 میں پہنا گیا یہ تاریخی لباس فیشن کے ساتھ ساتھ ڈائنا کے اعتماد، خودمختاری اور جذبات کے منفرد اظہار کی علامت بھی بن چکا ہے۔
یہ لباس یونانی ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولیان نے تیار کیا تھا۔ شہزادی ڈائنا نے اسے لندن کی سرپینٹائن گیلری میں منعقدہ ایک فلاحی تقریب میں پہنا تھا، جس کے بعد یہ لباس فیشن کی دنیا میں ایک نمایاں علامت بن گیا۔ اسے ’’ریونج ڈریس‘‘ اس لیے کہا جانے لگا کیونکہ ڈائنا نے یہ لباس اسی شام پہنا تھا جب شہزادہ چارلس نے ایک ٹیلی ویژن دستاویزی پروگرام میں کمیلا پارکر باؤلز کے ساتھ اپنے تعلقات کا عوامی طور پر اعتراف کیا تھا۔
1997 میں 36 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی شہزادی ڈائنا نے اس لباس کے ذریعے شاہی لباس کے روایتی تصورات کو بھی توڑ دیا تھا۔ سیاہ رنگ، ڈیپ نیک ڈیزائن اور گھٹنوں سے اوپر تک کی لمبائی نے اسے اس دور کے شاہی ملبوسات سے بالکل مختلف بنا دیا تھا۔
ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولیان نے ماضی میں بتایا تھا کہ ڈائنا کافی عرصے سے یہ لباس پہننا چاہتی تھیں لیکن وہ اسے زیادہ بے باک محسوس کر کے گریز کرتی رہیں۔ شہزادی نے معصوم سفید لباس کے بجائے سیاہ لباس کا انتخاب کیا، اور غصے کے اظہار کے طور پر سرخ نیل پالش بھی لگائی جو اس سے پہلے ان کے انداز میں کم دیکھی گئی تھی۔
نیلامی کی تفصیلات
توقع ہے کہ یہ لباس نیلامی میں تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 2 کروڑ 58 لاکھ روپے) میں فروخت ہوگا۔ یہ لباس دسمبر میں نیویارک میں ہونے والی سوتھبیز کی ’’لگژری ویک‘‘ نیلامی کا حصہ ہوگا، جس کی قیمت 1 لاکھ 50 ہزار سے 3 لاکھ امریکی ڈالر تک لگائی گئی ہے۔ یہ لباس جون 1997 کے بعد پہلی مرتبہ دوبارہ فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، جب ڈائنا نے اپنے 79 ملبوسات نیلام کیے تھے اور حاصل ہونے والی رقم کینسر اور ایڈز سے متعلق فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کی گئی تھی۔ اس بار بھی نیلامی سے حاصل رقم کا ایک حصہ این ایچ ایس لوتھین چیریٹی کو دیا جائے گا۔
نیلامی سے قبل یہ لباس لندن، ہانگ کانگ اور جنیوا میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ سوتھبیز کے لندن نیلام گھر میں اسے 18 سے 24 ستمبر تک عوام کے لیے نمائش پر رکھا جائے گا۔ اصل نیلامی 9 دسمبر کو براہِ راست ہوگی۔
مالک اور سوتھبیز کا تبصرہ
لباس کی موجودہ مالک، جنہوں نے اسے پہلی نیلامی میں خریدا تھا، نے کہا: ’’تصویر کھینچے جانے کے چند لمحوں میں یہ لباس ایک عام کاک ٹیل ڈریس سے ایک طاقتور بیان بن گیا۔ آج 30 برس بعد بھی دنیا کے کسی بھی حصے میں اس لباس کا نام لیا جائے تو ہر شخص سمجھ جاتا ہے کہ کس لباس کی بات ہو رہی ہے۔‘‘
سوتھبیز کی عالمی سربراہ برائے ہینڈ بیگز اور فیشن، مورگن حلیمی نے کہا: ’’جب الفاظ ناکافی ثابت ہوں تو فیشن ایک زبان بن سکتا ہے۔ شہزادی ڈائنا اس بات کو فطری طور پر سمجھتی تھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دہائیوں گزرنے کے باوجود جو چیز لوگوں کو یاد ہے، وہ اس رات کا اسکینڈل نہیں بلکہ شہزادی ڈائنا کا اعتماد اور اپنے آپ پر اختیار ہے۔

