برطانیہ: معاون موت بل ہاؤس آف کامنز میں دوسری بار مسترد

london 110926 d


لندن،
برطانیہ میں لاعلاج مریضوں کو زندگی ختم کرنے کے لیے طبی مدد کا قانونی حق دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامنز نے ایک بار پھر مسترد کر دیا۔ جمعے کو ہونے والی ووٹنگ میں 270 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 286 نے مخالفت میں ووٹ دیا، یوں یہ بل 16 ووٹوں کی اکثریت سے ناکام ہوگیا۔
یہ دوسرا موقع تھا جب قانون سازوں نے یہ قانون منظور کرانے کی کوشش کی۔ گزشتہ سال بھی ایسا ہی بل ہاؤس آف کامنز میں منظوری کے باوجود ہاؤس آف لارڈز میں پارلیمانی وقت ختم ہونے کے باعث قانون نہ بن سکا تھا۔
بل کا مقصد ایسے بالغ افراد کو، جن کی متوقع زندگی چھ ماہ سے کم رہ گئی ہو، طبی مدد سے زندگی ختم کرنے کا حق دینا تھا، جس کے لیے دو آزاد ڈاکٹروں کی تصدیق، ہائی کورٹ جج کی منظوری اور لازمی انتظار جیسی حفاظتی شرائط شامل تھیں۔
پانچ گھنٹے کی جذباتی بحث کے دوران پارلیمنٹ اسکوائر پر حامی اور مخالف مظاہرین بھی جمع ہوئے۔ تنظیم ”ڈگنٹی اِن ڈائنگ“ نے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا جبکہ ”کیئر ناٹ کِلنگ“ نے اسے کمزور افراد کے تحفظ کا فیصلہ کہا۔ حکومت نے واضح کیا کہ وہ خود اس معاملے پر قانون سازی نہیں کرے گی۔

متعلقہ پوسٹ