انصاف اگر اندھا ہے تو آواز ہم بنیں گے ۔   

IMG 20260911 WA0628 1

عرفان احمد خان ۔ وائس آف جرمنی

پاکستان کی سیاست اور مذہبی دنیا میں جن شخصیات کے ہاتھوں میں قسمت کی لکیر معمول سے زیادہ گہری ہے ان میں ایک نام مولانا طاہر محمود اشرفی کا بھی ہے ۔ وہ خود کو پاکستان علماء کونسل کا چیرمین کہتے ہیں ۔ اس کونسل کے دوسرے ممبران کون ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے یہ ہنوز پردہ راز میں ہے ۔ جس کونسل نے مولانا طاہر محمود اشرفی کو چیرمین منتخب کیا اس کا وہ اجلاس کب ہوا تھا اس پر بھی ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے ۔ جو چیز پردے سے باہر ہے وہ مولانا کی ذات ہے جس کے ہاتھوں میں قسمت کی لکیر خاصی گہری ہے ۔ وہ ہر حکومت کی ناک کا بال بننے کا ہنر جانتے ہیں ۔ حکمران فوجی ہوں یا سیاسی ۔ دایں نظریات کے ہوں یا بایں کے ۔ کہا جاتا ہے کہ سب کو ان کی ضرورت رہتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا کی جیب میں سعودی حکام کا ایسا تعارفی خط موجود رہتا ہے

جو وہ ہر حکومت کو پیش کر کے اپنے روزگار کا بندوبست کر لیتے ہیں ۔ یہ بات سارا ملک جانتا ہے کہ ان کے گٹار کی بس ایک ہی دھن ہے ۔ سعودیہ سے ادھار تیل یا امدادی رقوم حاصل کرنا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے اس لئے سعودی مذہبی اداروں کو خوش رکھنے کے لئے مولانا طاہر اشرفی رابطہ کے فرائض سر انجام دیتے ہیں ۔ ہمیں ان کی ملازمت پر اعتراض نہی لیکن ہمیں ان کی شخصیت میں قول و فعل کا جو تضاد نظر اتا ہے اس کے سبب ان کا اپنے آپ کو اسلامی سکالرز کی فہرست میں شامل کرنا کھٹکتا ہے ۔ ان کو کئی بار نشہ کی حالت میں ٹیلی ویژن پر بھاشن دیتے دیکھا گیا ۔ ان کی کار کی ڈگی سے شراب کی درامدگی اور اعجاز الحق ابن جنرل ضیاء الحق کی مداخلت پر مولانا اشرفی کی رہائی ابھی کل کی بات ہے ۔ مولانا حکمرانوں کا قیمتی اثاثہ رہے ہیں اس لئے اگر ان کو پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے سرکاری اعزازت ملتے رہے ہیں تو یہ کوئی اچنبہ کی بات نہی ۔ امسال جب 14 اگست کو ان کا نام سرکاری اعزاز پانے والوں میں پکارا گیا تو بہت ساری انگلیاں مولانا کی طرف اس وجہ سے اٹھیں کہ جن سات سو نوجوان بچوں اور بچیوں کو توہین  مذہب کے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے اور پھر ان سے رقوم بٹور کر مقدمات کو ختم کرنے کی کہانی عام ہوئی ہے اس میں مولانا اشرفی کا نام بھی لیا جاتا رہا ہے ۔ جبکہ اس گھنونے کھیل کا سرغنہ طاہر اشرفی کا بھائی حسن معاویہ بتایا جاتا ہے ۔ یہ مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں اور ہر سماعت پر اس گینگ کے طریق واردات کی جو کہانی منظر عام پر اتی ہے انسان اپنے سے سوال پوچھتا ہے کہ کیا یہ ملک اس لئے حاصل کیا گیا تھا. نے کبھی ان واقعات کی مذمت نہی کی یا مذہبی اقلیتوں اور حکومت کے درمیان مکالمہ کی ضرورت محسوس نہ کی ۔ ابھی چند دن پہلے راولپنڈی میں مسیحی بچی کو جس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ۔ اس کی والدہ کی چیخ و پکار پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ۔ راولپنڈی ہسپتال کی ایک مسیحی نرس ستارہ سلیم کو ہسپتال میں محض اس لئے زدوکوب کیاگیا کہ اس کا تعلق مسیحی فرقہ سے ہے اور اس نے ہمارے والد کو کیوں چھوا۔ 21 اگست کو ضلع نارووال کے گاؤں سراج میں ایک ہندو ٹمپل کو گرا دیا گیا ۔ کیا ان واقعات پر مولانا طاہر اشرفی نے کوئی ردعمل شو کیا۔ مولانا طاہر محمود اشرفی ایک سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے.ان کی مذہبی اور سیاسی زندگی اسلامی تعلیم کی بدنامی کا موجب بن رہی ہے ۔ ہم آرچ بشپ آف کینٹربری کے اس فیصلہ کو بھی ایک سیاسی فیصلہ سمجھتے ہوے اس غلط فیصلہ پر اپنا احتجاج نوٹ کروانا چاہتے ہیں ۔ چرچ کا یہ فیصلہ پاکستان میں رہنے والی مسیحی برادری اور توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنے والی نوجوان نسل کے دلوں پر تلوار چلانے کے مترادف ہے ۔
انصاف اگر اندھا ہے تو آواز ہم بنیں گے
غلط فیصلوں کے آگے دیوار ہم بنیں گے

متعلقہ پوسٹ