پیٹرول سبسڈی پر وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس، تفصیلات بتا دیں

ata tarar shiza fatma1789382410 0



اسلام آباد:

وزیراعظم کی پیٹرول پر سبسڈی اسکیم کے حوالے سے وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں تفصیلات بتا دیں۔

وفاقی حکومت نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹرسائیکل سواروں اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والوں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی کی تفصیلات جاری کردیں، جس کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی ملے گی۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ موٹرسائیکل سواروں کو ایک ہفتے میں 5 لیٹر سبسڈائزڈ پیٹرول ملے گا اور وہ مہینے میں مجموعی طور پر 20 لیٹر پیٹرول پر سبسڈی حاصل کرسکیں گے۔

شزا فاطمہ کے مطابق 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والے ایک وقت میں 10 لیٹر پیٹرول حاصل کرسکیں گے، جبکہ کار سواروں کو مہینے میں 30 لیٹر سبسڈائزڈ پیٹرول مل سکے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ شہری 1997 پر میسج کرکے پیٹرول پر سبسڈی حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کم کرنے میں آئی ایم ایف کا مسئلہ ہے۔ شزا فاطمہ کے مطابق ملک میں 2 کروڑ 13 لاکھ موٹرسائیکلیں، 6 لاکھ سے زائد رکشے جبکہ 17 لاکھ گاڑیاں ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو Reg لکھ کر شناختی کارڈ نمبر، گاڑی یا موٹرسائیکل کا نمبر، صوبے کے نام کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ لکھ کر 9771 پر بھیجنا ہوگی۔

شزا فاطمہ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے لیے A، اسلام آباد کے لیے I، گلگت بلتستان کے لیے G، خیبرپختونخوا کے لیے K، پنجاب کے لیے P اور سندھ کے لیے S لکھ کر بھیجنا ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم سے متعلق پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم نے مستحق افراد کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اجراء کیا ہے۔ یہ ریلیف ان لوگوں کے لیے ہے جن پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ موٹرسائیکل اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو ریلیف ملے گا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق 9771 سے موصول ہونے والا ٹوکن پٹرول پمپ پر دکھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام پہلے کبھی متعارف نہیں کروایا گیا اور وزیراعظم نے عوام کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے خصوصی اسکیم کا اجراء کیا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ اس سہولت کے بعد کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔ کفایت شعاری کے لیے بھی بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں، کچھ اقدامات جاری رکھے گئے ہیں جبکہ کچھ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اچھا ہوتا وہ ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لے کر آتے۔ بدقسمتی سے ان کی دھرنوں کی کال کھوکھلی کال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے کسی ایک ماڈل پراجیکٹ کی نشاندہی کردے اور بتائے کہ خیبرپختونخوا میں ساڑھے 12 سال کے دوران صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کے کھوکھلے نعروں کی کوئی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کی جائے گی ۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبس میں کمی کی گئی۔ ایکسپورٹرز نے بھی بجٹ کی تعریف کی۔ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے ہم نے ایسی اصلاحات کیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جنگ کے باعث بحری جہازوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔ آئل سپلائی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کو بھی کم سے کم رکھا گیا ہے۔ بجلی کے حوالے سے تاریخی ریفارمز کیے گئے ہیں۔ آئی پی پیز کے مسئلے کو حل کیا گیا، عوام کے لئے گنجائش پیدا کی گئی۔ پاور سیکٹر کے حوالے سے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ پاور سیکٹر ریفارمز پر ہماری پوری توجہ ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ