بنگلہ دیش: اسپیکر حافظ الدین کا شیخ حسینہ پر جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام


ڈھاکہ — بنگلہ دیش کی جاتیہ سنسد کے اسپیکر میجر (ریٹائرڈ) حافظ الدین احمد نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ پر اپنے دورِ اقتدار میں منظم جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی ماسٹر مائنڈ ہونے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ بھولا میں ایک تبادلہ خیال اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے شواہد اور متاثرین کی گواہیوں نے ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں حسینہ کی براہِ راست ذمہ داری ثابت کر دی ہے۔
اسپیکر نے حسینہ کو ’’دنیا کی بہترین اداکارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کے غمزدہ خاندانوں کو گنا بھون بلا کر جھوٹی تسلیاں دیتی رہیں، حالانکہ انہیں ان افراد کی اصل حراستی حیثیت معلوم تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنما بیرسٹر میر احمد بن قاسم کی مثال دی جنہیں خفیہ حراستی مرکز ’’آئینہ گھر‘‘ میں آٹھ سال تک تنہائی میں رکھا گیا اور حسینہ کے فرار کے بعد ہی رہائی ملی۔
اسپیکر نے مالی بدعنوانی کی بھی نشاندہی کی، جن میں روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ منصوبے میں تکیے اور پردے کی خریداری میں بے ضابطگیاں، اور ایک سابق وزیر مملکت کی جانب سے لندن میں۳۶۰؍ جائیدادیں حاصل کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ریاستی سطح پر ایسی بے ضابطگیاں برداشت نہیں کی جائیں گی اور مستقبل میں شفافیت، جوابدہی اور عدالتی انصاف پر زور دیا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ