| نیویارک
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹوریٹ (CTED) کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب نوجوانوں اور بچوں کو اپنے نشانے پر لینے کیلئے آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز، انتہائی پرتشدد مواد اور منفی ذیلی ثقافتوں کا سہارا لے رہی ہیں۔
"بیونڈ میسجنگ: ٹیررسٹ پروپیگنڈا ایز آپریشنل انفراسٹرکچر” کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہ پروپیگنڈے کو محض ایک ابلاغی ذریعہ نہیں بلکہ اپنی کارروائیوں کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں — بھرتی، انتہا پسندی کے فروغ، فنڈ ریزنگ، آپریشنل منصوبہ بندی اور زیرِ قبضہ علاقوں میں حکومتی طرز کی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے کیلئے۔
رپورٹ میں گیمنگ پلیٹ فارمز کے علاوہ آن لائن دنیا میں پرتشدد انتہا پسند نظریات کے بڑھتے ہوئے باہمی ربط، ٹیکنالوجی کے ذریعے صنفی تشدد، اور خواتین مخالف پلیٹ فارمز کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خاص طور پر افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا میں سرگرم دہشت گرد گروہ مقامی شکایات کا فائدہ اٹھانے اور رقم اکٹھی کرنے کیلئے پروپیگنڈے کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہوں کی تیزی سے بدلتی حکمت عملیوں اور رکن ممالک، قانونی نظاموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ردعمل کی رفتار کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ رپورٹ پر زور دیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملیوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے پروپیگنڈے کو محض مواد نہیں بلکہ دہشت گردی کے اہم محرک کے طور پر نشانہ بنانا ہوگا۔

