انقرہ — ترک صدر رجب طیب اردگان نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی نے PISA 2025 کے عالمی جائزے میں مطالعہ، ریاضی اور سائنس تینوں شعبوں میں بین الاقوامی درجہ بندی میں ۵۰؍ فیصد بہتری حاصل کی ہے۔ انہوں نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر انقرہ کے غازی اناطولین ہائی اسکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترکی واحد ملک ہے جس نے تینوں شعبوں میں بیک وقت نمایاں پیش رفت کی۔
OECD کے تعلیم و مہارت کے ڈائریکٹر آندریاس شلائخر نے بھی تصدیق کی کہ ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران ترک طلبہ نے تینوں مضامین میں بہتری دکھائی اور کم کارکردگی والے طلبہ کا تناسب بھی کم ہوا۔ انہوں نے ترکی کے تعلیمی نظام کو "واقعی آگے بڑھتا ہوا” قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کے کئی تعلیمی نظام وبا کے بعد طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ PISA نتائج کسی ایک حکومتی پالیسی کی براہ راست کامیابی ثابت نہیں کرتے بلکہ طویل مدتی تعلیمی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔

