افغانستان میں طالبان حکومت نے حرمین شریفین کے مقدس مقامات کی سلامتی اور حرمت کو خطرے میں ڈالنے والے ہر اقدام کو ’ناقابل معافی جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی کوشش سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر وزارت خارجہ کو گہری تشویش ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں۔
سعودی عرب نے بتایا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے منگل کی شام یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے جنوب میں بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا۔
مکې مکرمې ته څېرمه د ډرون برید د هڅې په اړه خپاره شویو راپورونو د ا.ا.ا. بهرنیو چارو وزارت ژوره اندېښنه راپارولې، او د حرمینو شریفینو پر لور هر ډول اقدام، چې د دغو سپېڅلو اماکنو امنیت او حرمت ته ګواښ پېښوي، یو نه بښونکی جنایت بولي او په کلکو ټکو یې غندي. pic.twitter.com/rzFebQ2wqe
— Abdul Qahar Balkhi (@QaharBalkhi) September 16, 2026
خطے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات کی سکیورٹی کو ’سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔
حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں نے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں جبکہ یمن کے اندر اور اس کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی حکام کے مطابق پیر کو حوثیوں کے حملوں میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ گذشتہ ہفتے مملکت بھر میں ہونے والے حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ’افغان حکومت حرمین شریفین کی جانب ایسے ہر اقدام کو، جو ان مقدس مقامات کی سلامتی اور حرمت کے لیے خطرہ ہو، ناقابل معافی جرم سمجھتی ہے اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘
عبدالقہار بلخی نے مزید کہا کہ حرمین شریفین پوری امتِ مسلمہ کے مشترکہ مقدس اور قابلِ احترام مقامات ہیں، اس لیے ان کی سلامتی، حرمت اور تقدس کو ہر قسم کے تنازعے، تشدد اور فوجی اقدامات کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق: ’حرمین شریفین کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ مسلمانوں کے گہرے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔‘

