’12ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی انکوائری‘ کا علم ہے نہ کوئی ریکارڈ: دفتر خارجہ

384657 1687008609


پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق دعووں کو ’غیر مصدقہ اور بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ ’وزارت کے پاس اس حوالے سے کسی نام نہاد انکوائری کا کوئی ریکارڈ یا معلومات موجود نہیں ہے، جبکہ مئی 2024 سے اب تک 17 لاکھ 25 ہزار دستاویزات کی تصدیق کی جا چکی ہے۔‘

وزارت خارجہ میں مختلف سرکاری اور نجی دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ انہیں بیرون ملک استعمال کے لیے قابلِ قبول بنایا جا سکے۔ ان میں تعلیمی اسناد، ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس، پیدائش اور شادی کے سرٹیفکیٹس، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ، وکالت نامہ (پاور آف اٹارنی)، تجارتی اور کمپنی سے متعلق دستاویزات سمیت دیگر قانونی کاغذات شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے دستاویزات کی تصدیق کے عمل سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر کہا ہے کہ وزارت کے پاس اس ’نام نہاد انکوائری‘ سے متعلق کوئی معلومات یا ریکارڈ موجود نہیں جس کا حوالہ دیا گیا ہے اور وزارت ’اس طرح کی سرگرمی پر کوئی توجہ نہیں دیتی۔‘

ترجمان سجاد علی خان نے کہا کہ وزارت خارجہ ’پیشہ ورانہ معیار اور دیانت داری کی اعلیٰ ترین سطح پر کام کرتی ہے اور غیر مصدقہ اور بے بنیاد دعووں کو سختی سے مسترد‘ کرتی ہے۔

یاد رہے کہ وزارت خارجہ میں شہریوں کے کاغذات کی تصدیق کے عمل سے متعلق ایک مبینہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی چینلز کے ذریعے شہریوں سے مبینہ طور پر 12 ارب روپے وصول کیے گئے۔

جیو نیوز کے مطابق اسے وزارت خارجہ میں جمع کرائی گئی  مبینہ تحقیقاتی رپورٹ کی نقل موصول ہوئی ہے، جس میں کاغذات کی تصدیق کے عمل میں شہریوں سے غیر قانونی طور پر رقم بٹورنے والے ایک مبینہ ’مافیا‘ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق  مبینہ طور پر شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے لیے غیر قانونی چینلز استعمال کرنے کے عوض آٹھ لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے رہے، جبکہ مجموعی طور پر ایک سال کے دوران  مبینہ طور پر 12 ارب روپے کی رقم مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اکٹھی کی گئی۔

بریفنگ کے بعد ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ مئی 2024 سے اب تک 17 لاکھ 25 ہزار دستاویزات کی تصدیق کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً چار ارب (3.94 ارب) روپے ریونیو حاصل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، ’تقریباً دو ہزار افراد دستاویزات کی تصدیق کے لیے وزارت خارجہ میں ذاتی حیثیت میں وزارت خارجہ آتے ہیں۔‘

جیو نیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کی یہ  مبینہ رپورٹ جولائی میں سیکرٹری خارجہ کے دفتر کو بھیجی گئی تھی، تاہم اسے قومی احتساب بیورو (نیب) یا کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو نہیں بھیجا گیا، جبکہ کمیٹی کی سفارش کے باوجود مبینہ طور پر ملوث بعض افسران کو بیرون ملک بھی تعینات کیا گیا۔

جیو نیوز کے مطابق اس  مبینہ رپورٹ میں شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے عمل کے دوران مبینہ غیر قانونی وصولیوں اور اس میں ملوث افسران و اہلکاروں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔

بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے وزارت خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کے عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزارت اور ملک کے چار دارالحکومتوں میں قائم کیمپ دفاتر میں روزانہ تقریباً 17 سے 18 ہزار دستاویزات کی تصدیق کی جاتی ہے۔

سجاد علی خان کے مطابق بڑی تعداد میں دستاویزات کی تصدیق کے باعث وزارت میں صبح کے علاوہ شام کی شفٹ بھی کام کرتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سجاد علی خان کا کہنا تھا کہ وزارت نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کیو آر کوڈ اور کوریئر سسٹم سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو دستاویزات کی تصدیق کے لیے اسلام آباد نہ آنا پڑے۔

ترجمان نے کہا کہ ’پاور آف اٹارنی کی ڈیجیٹل تصدیق کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے کسی دوسرے ملک میں بیٹھا شخص یہاں وزارت میں ڈیجیٹل طور پر پاور آف اٹارنی کی تصدیق کرا سکتا ہے۔ وزارت خارجہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن کے ساتھ مربوط ڈیٹا بیس بھی قائم کیا ہے، جس کے بعد دستاویزات کی تصدیق کا عمل آن لائن چند منٹوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔‘

ترجمان نے سال 2024 میں متعارف کرائے گئے اپوسٹیل نظام (Apostille system) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے درخواست گزاروں کو مختلف مقامات پر دستاویزات کی تصدیق کرانے کے بعد سفارت خانوں کا رخ کرنا پڑتا تھا اور دوسرے ملک میں استعمال کے لیے دستاویزات کو دوبارہ تصدیق کرانا پڑتی تھیں۔ ’اب اپوسٹیل نظام کے تحت وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ دستاویزات 120 ممالک میں قبول کی جا رہی ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ اس ’نظام نے ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے مالی اور جسمانی بوجھ کم کیا ہے۔ ڈاک کے نظام کے ذریعے بھی دستاویزات کی تصدیق کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ایک مرتبہ کی گئی تصدیق 120 ممالک کے لیے قابل قبول ہے۔‘

تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ درخواست گزاروں کی بڑی تعداد کے باعث ہر شخص کا کام پہلی مرتبہ میں مکمل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے تاخیر ہو سکتی ہے۔ وزارت کا مقصد اپنے نظام کو مزید بہتر بنانا ہے اور کام کے حجم کو دیکھتے ہوئے متعلقہ شعبے میں بہترین ممکنہ افسران تعینات کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق دستاویزات اور ادائیگی کا عمل آن لائن ہے اور رقم براہ راست متعلقہ اکاؤنٹس میں جاتی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ