امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو لاک ہیڈ مارٹن کے ایف-35 لائٹننگ ٹو جوائنٹ سٹرائیک فائٹر طیاروں کی ممکنہ فروخت کی جمعرات کی رات منظوری دے دی ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ معاہدے کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو 48 ایف-35 جنگی طیارے اور 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجن فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے میں طیاروں کے علاوہ مواصلاتی آلات، سپیئر پارٹس اور دیگر معاونت بھی شامل ہوگی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں
امریکی محکمہ خارجہ نے آن لائن جاری کیے گئے نوٹس میں کہا کہ مجوزہ فوجی سازوسامان اور معاونت کی فروخت سے خطے میں فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
ریاض طویل عرصے سے ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش کر رہا ہے، جو اس وقت مشرق وسطیٰ میں صرف اسرائیل کی ملکیت ہیں۔
قبل ازیں 18 نومبر، 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ وائٹ ہاؤس سے ایک روز قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ سعودی عرب کو ایف 35 سٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ نے اب تک صرف ایف 35 طیاروں کی فروخت کی اجازت اپنے قریبی اتحادیوں کو دی ہے، بشمول متعدد یورپی نیٹو اتحادیوں اور اسرائیل۔
واشنگٹن نے 2019 میں ترکی کو ایف 35 پروگرام سے باہر کر دیا کیونکہ انقرہ کی طرف سے روسی فضائی دفاعی نظام کی خریداری نے خدشہ پیدا کیا کہ ماسکو پچھلے دروازے سے طیارے کی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔
ریاض کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کے متعلق حالیہ پیش رفت سے قبل جنوری 2026 کو امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو نو ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور متعلقہ سامان کی فروخت کی منظوری بھی دے دی تھی۔

