پاکستان میں ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے، لیکن اس میدان میں خواتین کے لیے جگہ بنانا آج بھی ایک آسان سفر نہیں۔ اسلام آباد کے گاؤں موزہ موریہ کی 19 سالہ زنیرا ندیم اسی میدان میں اپنا نام بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے انڈر 19 ہاکی ایونٹ میں زنیرا نے اپنی ٹیم کی بطور کپتان نمائندگی کی، جس میں پاکستان کے مختلف حصوں سے خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
زنیرا کے لیے ہاکی کھیلنا محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ ان کا شوق ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ اس کھیل میں آنے کے بعد انہیں لوگوں کے ردعمل اور سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر خواتین خود اس میدان میں قدم نہیں رکھیں گی تو پاکستان میں خواتین کی ہاکی کے لیے جگہ کیسے بنے گی؟
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں زنیرا ندیم نے بتایا کہ انہیں معلوم تھا کہ ہاکی کھیلنے کے لیے جب وہ گھر سے باہر نکلیں گی تو انہیں بہت سی چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن انہوں نے اس کے باوجود اس کھیل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق ہاکی کھیلنا ان کا شوق ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان میں خواتین کے لیے بھی اس کھیل میں جگہ بنے۔
زنیرا کا کہنا ہے کہ اگر خواتین ہاکی میں آگے آئیں گی تو اس کھیل کی بحالی میں وہ بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور شاید ان کے بعد آنے والی لڑکیوں کے لیے ہاکی کھیلنے کا راستہ کچھ آسان ہو جائے۔
لیکن زنیرا کے لیے ہاکی کا سفر صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں۔
وہ ایک سادہ گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور گھر سے ٹریننگ تک ان کا روز کا سفر بھی ان کے اس شوق کا حصہ ہے۔ ان کے بھائی انہیں موٹر سائیکل پر ٹریننگ کے لیے لے کر جاتے ہیں۔
زنیرا کے مطابق ان کے گھر والوں نے ان کے شوق کو سمجھا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے والد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی ہاکی کھیلنا چاہتی ہے تو ان کے لیے سب سے اہم بات یہی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی خواہش کو سمجھیں۔
ان کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ لوگ اس بارے میں باتیں کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بیٹی اس صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار تھی۔
زنیرا کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ لوگ ان کی بیٹی کے ہاکی کھیلنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
تاہم زنیرا کے مطابق پاکستان میں ہر لڑکی کے لیے صورت حال ایک جیسی نہیں۔
وہ اس وقت ایک مرد کوچ سے ہاکی کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ صورت حال قابلِ قبول ہے کیونکہ ان کے گھر والے ان پر اعتماد کرتے ہیں، لیکن بہت سی لڑکیوں کے لیے مرد کوچ سے ٹریننگ حاصل کرنا ایک مشکل معاملہ ہو سکتا ہے۔
زنیرا کے مطابق بعض خاندانوں میں لڑکیوں کے لیے مرد کوچ کے ساتھ تربیت حاصل کرنا آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے کئی لڑکیاں کھیل کا حصہ بننے کے باوجود ٹریننگ جاری نہیں رکھ پاتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو ہاکی میں آگے لانا ہے تو ان کے لیے ایسا ماحول بھی ضروری ہے جہاں وہ آسانی سے اور اعتماد کے ساتھ تربیت حاصل کر سکیں۔
ٹریننگ کے ساتھ زنیرا کے لیے ہاکی کے اخراجات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔
ہاکی کھیلنے کے لیے سٹک، شوز، کِٹ اور دیگر ضروری سامان درکار ہوتا ہے، جو محدود وسائل رکھنے والے گھرانوں کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
زنیرا کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں کو ضروری سامان اور سہولیات فراہم کی جائیں تو ان جیسی بہت سی لڑکیوں کے لیے اس کھیل کو جاری رکھنا آسان ہو سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر کھلاڑیوں کو ہر چیز اپنی جیب سے خریدنی پڑے تو بہت سی لڑکیوں کے لیے ہاکی کو طویل عرصے تک جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق صرف ٹیلنٹ ہونا کافی نہیں، کھلاڑیوں کو کھیل جاری رکھنے کے لیے ضروری سہولیات اور وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔
زنیرا کے لیے ہاکی کھیلنے کا مقصد صرف اپنی خواہش پوری کرنا نہیں بلکہ خواتین کے لیے اس کھیل میں مزید مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بعد آنے والی لڑکیوں کو ہاکی کھیلنے کے لیے وہ مشکلات پیش نہ آئیں جن کا سامنا آج انہیں کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کے لیے سوال اب یہ نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین ہاکی کے لیے جگہ کیسے بنائی جائے گی۔

