واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس نے ایران پر امریکی فوجی کارروائی کو کھلے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ اسرائیل کی جنگ تھی، جس میں امریکا کو بھی گھسیٹا گیا۔”
ایرک پرنس کا یہ بیان اس لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ ٹرمپ کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی جانب سے اس طرح کا کھلا اختلاف امریکی حکومت کے اندرونی انتشار کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکا میں ایران پر حملے میں امریکی شمولیت کو "وار آف چوائس” یعنی ایک غیر ضروری اور منتخب کردہ جنگ قرار دیا جا رہا ہے، جو امریکی قومی مفادات کے بجائے کسی اور کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے امریکی فوج اور وسائل کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کا براہِ راست امریکی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صرف 27 فیصد امریکی شہری ایران پر فوجی کارروائی کے حامی تھے اور اب ٹرمپ کے اپنے حلقے میں بھی اختلافی آوازیں بلند ہونا ایک سنگین سیاسی پیش رفت ہے۔

