سی بی ایف سی نے آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد میں عمر خالد پر بنی ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ پر سوال کھڑے کیے

Umar Khalid Photo Credit The Wire e1648364606181


آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد میں عمر خالد پر بنی ڈاکیومنٹری ’پریزنر نمبر 626710 از پریزنٹ‘ کو جمعہ کی رات انسٹی ٹیوٹ کے کے آر بی آڈیٹوریم میں طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے دکھایا جانا تھا۔ تاہم، سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بغیر سرٹیفکیٹ والی فلم کو سب کے سامنے دکھانا سنیماٹوگراف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

Umar Khalid Photo Credit The Wire e1648364606181
عمر خالد۔ (فائل فوٹو: دی وائر)

نئی دہلی:آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد میں چھ سال سے بغیر شنوائی کے جیل میں بند اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد پر بنی ایک ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ مبینہ طور پر رد کر دی گئی ہے۔

سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) نے اس پروگرام پر سوال اٹھائے تھے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ بغیر سرٹیفکیٹ والی فلم کوسب کے سامنے دکھانا سنیماٹوگراف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جب تک کہ اس کے لیے قانون کے تحت کوئی خصوصی چھوٹ حاصل نہ کی گئی ہو۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ’پریزنر نمبر 626710 از پریزنٹ‘نام اس ڈاکیومنٹری کو فلمساز للت واچانی نےڈائریکٹ کیا ہے۔ اسے جمعہ کی رات 8 بجے انسٹی ٹیوٹ کے کے آر بی آڈیٹوریم میں طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے دکھایا جانا تھا۔

سی بی ایف سی نے ایکس پر پوسٹ کیا، ’ایسی ڈاکیومنٹری فلم کی پبلک اسکریننگ، جسے سی بی ایف سی نے ابھی تک سرٹیفائی نہیں کیا ہے، سنیماٹوگراف قانون کی خلاف ورزی ہے، جب تک کہ قانون کے تحت کوئی خصوصی چھوٹ حاصل نہ کی گئی ہو۔‘

اس نے آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد کو بھی ٹیگ کیا اور کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے حکام ’ضروری کارروائی کے لیے اس پر توجہ دے سکتے ہیں۔‘

سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی)، مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات کے تحت کام کرتا ہے۔

ذرائع کے حوالے سے پی ٹی آئی نے بتایا کہ طلبہ نے اسکریننگ رد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسکریننگ کے لیے بھیجے گئے دعوت نامے میں کہا گیا تھا کہ اسے ’پالیٹکل پریزنرز ڈے‘ (سیاسی قیدیوں کے مخصوص دن) کے موقع پر منعقد کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس میں جتیندر ناتھ داس کی برسی کا بھی ذکر تھا، جو بھگت سنگھ کے ساتھی تھے اور 1929 میں لاہور جیل میں لمبی بھوک ہڑتال کے بعد ان کی موت  ہوگئی تھی۔

ٹائمز آف انڈیا  کی رپورٹ کے مطابق، اس دوران آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد نے مجوزہ اسکریننگ سے خود کو الگ کر لیا اور کہا کہ نہ تو ادارے اور نہ ہی اس کے کسی تسلیم شدہ طلبہ تنظیم نے بغیرسرٹیفکیٹ والی فلم کی اسکریننگ ہوسٹ کی تھی۔

ایک بیان میں ادارے نے کہا کہ وہ ’واضح کرتا ہے کہ نہ تو ادارے اور نہ ہی اس کے کسی تسلیم شدہ اسٹوڈنٹ کلب، سیل یا تنظیم نے سی بی ایف سی سے سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے والی کسی فلم کی اسکریننگ منعقد یاہوسٹ کی ہے۔‘

ادارے نے کہا،’آئی آئی آئی ٹی حیدرآباد نے کیمپس میں ہونے والے پروگراموں اور سرگرمیوں کے لیے ضابطہ بنا رکھے ہیں۔ ادارے یا اس سے تسلیم شدہ طلبہ تنظیموں کے ساتھ کسی بھی غیر مجاز یا غیر متعلقہ سرگرمی کو منسوب کرنے والا کوئی بھی دعویٰ حقائق کی رو سے غلط ہے۔‘

یہ پیش رفت بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) میں ڈاکیومنٹری کی مجوزہ اسکریننگ ملتوی کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ فیصلہ آر ایس ایس سے وابستہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے اعتراضات کے بعد لیا گیا تھا۔ اے بی وی پی کا دعویٰ تھا کہ اسکریننگ کی اجازت دینے کا مطلب کیمپس کو سیاسی پروپیگنڈہ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا ہوگا۔

اس کے بعد طلبہ کی کمیٹی نے ’لاجسٹک اور سکیورٹی وجوہات‘کا حوالہ دیتے ہوئے اسکریننگ ملتوی کر دی اور کہا کہ اسے بعد میں ٹرائمیسٹر کے بعد منعقد کیا جائے گا۔

بتادیں کہ ’پریزنر نمبر 626710 از پریزنٹ‘جے این یو کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد پر مبنی ہے۔ انہیں ستمبر 2020 میں شمال-مشرقی دہلی کے فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

خالد پر اس معاملے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور دیگر دفعات کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں اور گرفتاری کے بعد سے ہی وہ حراست میں ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ