سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے مملکت کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں میں شدت آنے کے بعد، ہفتے کو علی الصبح ریاض اور قریبی شہر الخرج میں ممکنہ فضائی خطرے کے پیش نظر دو الرٹ جاری کیے، جو بعدازاں واپس لیے لیے گئے۔
اے ایف پی کے مطابق پہلا الرٹ مقامی وقت کے مطابق رات دو بج کر 58 منٹ پر جاری کیا گیا اور عینی شاہدین نے ریاض میں کم از کم دو دھماکے سننے کی اطلاع دی۔ چند منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔
ملک کے جنوب مغرب میں جزائر فرسان میں بھی اسی طرح کا الرٹ جاری کیا گیا، تاہم فوری طور پر خطرے کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔
ریاض اور الخرج میں صبح پانچ بج کر 19 منٹ پر دوسری وارننگ جاری کی گئی، جب کہ سول ڈیفنس نے 10 منٹ سے زائد وقت گزرنے کے بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا۔
یہ انتباہ نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے رہائشیوں کے موبائل فونز پر بھیجے گئے۔ دارالحکومت کے رہائشیوں کو موصول ہونے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’علاقہ دشمن کے فضائی خطرے کی زد میں ہے۔‘
یہ الرٹ ریاض کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت تھے، جہاں رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں، کھڑکیوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں اور سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
سول ڈیفنس نے جمعے کو مملکت کے کئی حصوں میں اسی طرح کے الرٹس جاری کیے تھے، جن میں صوبہ مکہ میں جدہ اور طائف، صوبہ عسیر میں خمیس مشیط اور صوبہ مدینہ میں العلا شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ تازہ ترین وارننگز حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گروپ نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی مبینہ ’مجرمانہ کوششوں‘ کو ناکام بنا دیا ہے اور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
صنعا اور یمن کے زیادہ تر شمالی اور مغربی حصوں پر قابض حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے، جن میں ڈرونز اور میزائلوں سے کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔
حملوں میں یہ شدت، جولائی میں گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد آئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان حملوں نے سعودی عرب کے اندر آبادی والے علاقوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے متاثر کیا ہے۔
جمعرات کو فضا ہی میں تباہ کیے گئے ایک حوثی ڈرون کا ملبہ طائف میں گرا، جس سے ایک یمنی شہری جان سے گیا جب کہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہو گئے، جن میں پاکستانی شدید زخمی ہے۔ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ واقعہ سعودی فضائی دفاع کی جانب سے مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو مار گرانے کے دو دن بعد پیش آیا ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ وہ مقدس شہر کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ سعودی حکام نے اس حملے کی کوشش کو کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔
سعودی حکام کے مطابق، اس ماہ کے اوائل میں، جنوبی سعودی عرب پر حوثی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ دوبارہ شروع ہونے والی یہ لڑائی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی اس جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ ہے جس نے یمن میں بڑے پیمانے پر ہونے والی لڑائی کو روک دیا تھا۔

