خیبرپختونخوا پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے ہفتے کو بتایا ہے کہ کوہاٹ میں پولیس لائن پر جمعے کو ہونے والے دھماکے اور فائرنگ میں اموات کی تعداد بڑھ کر کم از کم 31 ہو گئی ہے جب کہ لڑائی تاحال جاری ہے۔
حملہ آوروں نے جمعے کی سہ پہر کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائن کمپلیکس پر دھاوا بول دیا تھا۔
پولیس کا یہ کمپاؤنڈ ضلعی سطح کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور پولیس کے کئی دیگر یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ’عسکریت پسندوں کے حملے اور خودکش دھماکے میں اب تک 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 31 افراد جان سے جا چکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔‘
پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوہاٹ پولیس کمپلیکس کے سپیشل برانچ سیکشن میں اب بھی کئی عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں۔‘
اہلکار نے مزید کہا: ’گذشتہ رات گئے سے ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ ان کی اصل تعداد تاحال غیر واضح ہے۔‘
جمعے کی رات گئے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بڑی اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے اور کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک دھڑے اور مقامی عسکریت پسند گروپ اتحاد المجاہدین پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ملبہ اور تباہ شدہ دیواریں
اے ایف پی کی تصاویر میں حملے کے بعد فوجی اہلکاروں کو اینٹوں کے ڈھیر، ملبے اور تباہ شدہ دیواروں کے پاس کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اسالٹ رائفلز اٹھائے فوجی کمپلیکس کی نگرانی کر رہے ہیں۔
پولیس کمپاؤنڈ کے قریب ایک سڑک پر کئی ایمبولینسیں قطار میں کھڑی دیکھی گئیں۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا اور جنوبی سرحدی صوبے بلوچستان میں حملوں میں اضافے کی وجہ افغانستان سے ابھرنے والی عسکریت پسندی کو قرار دیا ہے، جبکہ طالبان حکومت افغان شمولیت کی تردید کرتی ہے۔
ان الزامات نے پڑوسی ممالک کے درمیان شدید کشیدگی اور مسلح تصادم کو جنم دیا ہے اور پاکستان نے جان لیوا فضائی حملے کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کابل میں طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون میں مشرقی افغانستان پر پاکستان کے تازہ ترین حملوں میں درجنوں عام شہری جان سے گئے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی شام اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حملے کی رپورٹ طلب کی تھی۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔
انہوں نے ٹی ٹی پی گروپ کے لیے پاکستانی قیادت کی جانب سے استعمال ہونے والی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’فتنہ الخوارج اور غیر ملکی پشت پناہی سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔‘

