بی جے پی کے پروگرام کی ذمہ داری سرکاروں پر، آخر یہ معمہ کیا ہے؟

modi


سترہ ستمبر کو وزیر اعظم مودی کی سالگرہ کے موقع پر بی جے پی کی ’آشیرواد کا دیا‘ جلانے کی اپیل کئی ریاستوں میں سرکاری سرگرمیوں کا حصہ بن گئی۔ سرکاری اسکولوں، اساتذہ، انتظامی اہلکاروں اور سرکاری عمارتوں کو اس سے جوڑے جانے کی مثالیں سامنے آئیں۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ آخر سیاسی جماعت کی ایک مہم سرکاری اور ایڈمنسٹریٹو مشینری سے کیسے جڑ گئی؟

modi
’آشیرواد کا دیا‘ پروگرام کے تحت دہلی اسمبلی کے احاطے میں جلائے گئے دیوں کی تصویر۔ دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجندر گپتا نے اسے ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا،’یہ دیا پردھان منتری جی کے تئیں ہم وطنوں کی محبت، اعتماد اور نیک خواہشات کی علامت ہے۔‘

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ، یعنی 17 ستمبر 2026 کو ملک بھر میں جس طرح ’آشیرواد کا دیا‘پروگرام منعقد کیا گیا، اس کی شروعات بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک اپیل سے ہوئی تھی۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ اپیل کئی ریاستوں میں سرکاری محکموں، ضلع انتظامیہ، سرکاری اسکولوں، پنچایتوں اور دیگر عوامی اداروں کے پروگرام کا حصہ بن گئی۔

یعنی پارٹی کی اپیل، سرکاری فرمان میں تبدیل ہوگئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی کی سطح پر کی گئی ایک سیاسی اپیل کب اور کیسے ایڈمنسٹریٹو پروگرام میں تبدیل ہوگئی؟

چودہ ستمبر کو بی جے پی صدر کی اپیل، 15 ستمبر کو نڈا نے  بتایا مہم کا خاکہ

گزشتہ14 ستمبر کو بی جے پی کے صدر نتن نوین نے سوشل میڈیا پر ’آشیرواد کا دیا‘ جلانے کی اپیل کی۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی 25 سالہ عوامی زندگی کے سفر کو ’جن سیوا سے دیش سیوا‘سے جوڑتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کو شام 6 سے 7 بجے کے بیچ لوگ اپنے اپنے گھروں میں دیا جلائیں اور وزیر اعظم کی درازی عمر اور اچھی صحت کے لیے دعا کریں۔نتن نوین کی یہ اپیل بی جے پی کی ایک ماہ تک چلنے والی ’سیوا سنکلپ ابھیان‘کا حصہ تھی۔

گزشتہ15ستمبر کو مرکزی وزیر صحت اور بی جے پی رہنما جے پی نڈا نے مہم کا تفصیلی خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کو ’سیوا دیوس‘منایا جائے گا۔ ان کے مطابق، اس دوران بی جے پی کارکن صفائی مہم، خون کے عطیہ کے کیمپ، صحت کے کیمپ اور دیگر خدمات کی سرگرمیاں انجام دیں گے۔

اسی دن شام کو ’مودی جی کو چاہنے والے کروڑوں لوگ‘ ’ آشیرواد کا دیا‘ جلائیں گے۔ نڈا نے ان دیوں کو وزیر اعظم کی درازی عمر، صحت اور طویل عرصے تک ملک کی خدمت کرنے کی تمنا سے جوڑا۔

یعنی شروعاتی اعلان واضح طور پر بی جے پی کی تنظیمی مہم سے متعلق تھا۔ لیکن اس کے بعد کئی ریاستوں میں سرکاری مشینری بھی اسی پروگرام کی تیاریوں میں مصروف نظر آنے لگی۔

دہلی: 75 سرکاری اسکولوں میں دیے، ویڈیو ریکارڈ کرنے کی ہدایت

دہلی میں اس کی سب سے واضح مثال سرکاری اسکولوں سے متعلق ہے۔دی وائرکی رپورٹ کے مطابق ،  راجدھانی کے کم از کم 75 سرکاری اسکولوں، جنہیں سی ایم شری اسکول کے طور پرمنتخب کیا گیا ہے، میں 17 ستمبر کو احاطے میں دیے جلانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

اسکولوں سے پروگرام اور اس سے متعلق سرگرمیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کرکے اسے گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اتنا ہی نہیں، 17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک چلنے والے ’سیوا سنکلپ اتسو‘کے تحت اسکولوں میں تقریری مقابلہ، مصوری اور ریل بنانے جیسے دوسرےمقابلوں کا بھی پروگرام رکھا گیا ہے۔ یہ مدت اسکولوں کے وسط مدتی امتحانات  (مڈ-ٹرم اگزام) کے دوران پڑ رہی تھی۔

rekha
نئی دہلی کے کرتویہ پتھ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں دیے ہاتھ میں لیے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا (بیچ میں)، بی جے پی ایم پی بانسوری سوراج (بائیں) اور دیگر لوگ۔تصویر: پی ٹی آئی

سترہ ستمبر کو دہلی کے کرتویہ پتھ پر تقریباً 1.25 لاکھ مٹی کے دیے جلائے گئے۔ دہلی حکومت نے اسے ’آشیرواد کا دیا‘پروگرام کے تحت منعقد کیا تھا۔

آزاد صحافی پرنو پرادھی نے اس پروگرام کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وہاں سرکاری اسکول کے بچوں کو دیکھا، جن کے وسط مدتی امتحانات (مڈ-ٹرم اگزام)چل رہے ہیں۔ ویڈیو میں بچے اور اساتذہ خود بھی یہ بات بتاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پرادھی نے اساتذہ کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا کہ این ڈی ایم سی کی جانب سے اسکولوں کو طلبہ کو پروگرام میں بھیجنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

بہار میں محکمہ تعلیم کا فرمان: صرف سرکاری ہی نہیں، نجی اسکولوں اور ہاسٹلوں میں بھی ’آشیرواد کا دیا

بی جے پی کی جانب سے 14 ستمبر کو ’آشیرواد کا دیا‘جلانے کی اپیل کی گئی تھی، اور ٹھیک اسی دن بہار کے محکمہ تعلیم نے بھی ریاست کے اسکولوں اور ہاسٹلوں میں اسی نام سے پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت جاری کردی تھی۔14 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے خط میں بہار سرکار کے محکمہ تعلیم کے اسپیشل سکریٹری دھرمندر کمار نے تمام ضلع تعلیمی افسران اور بہار ایجوکیشن پروجیکٹ سے وابستہ ضلع پروگرام افسران کو یہ ہدایت بھیجی۔حکم نامے کا موضوع ہی تھا،’ مورخہ 17.09.2026 کی شام کو تمام اسکولوں اور ہاسٹلوں میں ’آشیرواد کا دیا‘ روشن کرانے کے سلسلے میں۔ ‘

حکم نامے میں کہا گیا کہ ریاست کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں اور ہاسٹلوں میں تمام اساتذہ کی فعال شرکت کے ساتھ 17 ستمبر کی شام ’آشیرواد کا دیا‘روشن کیا جانا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ’ہر ایک دیا ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے اجتماعی عزم کی علامت ہوگا۔‘اساتذہ سے دیا جلانے کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی جانب سے چلائی جا رہی مختلف عوامی فلاحی اسکیموں کے بارے میں بھی بیداری پیدا کرنے کو کہا گیا۔

یہ حکم اس لیے اہم ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر کی 14 ستمبر کی اپیل میں بھی 17 ستمبر کو شام 6 سے 7 بجے کے درمیان ’آشیرواد کا دیا‘جلانے کی اپیل کی گئی تھی۔ یعنی ایک ہی تاریخ، ایک ہی نام اور ایک ہی طرح کی سرگرمی،  پہلے پارٹی کی مہم میں نظر آتی ہے اور اسی دن بہار کے محکمہ تعلیم کے سرکاری حکم نامے کےتوسط سے ریاست کے سرکاری اور نجی اسکولوں اور ہاسٹلوں تک پہنچ جاتی ہے۔

حکم نامے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام براہ راست نہیں لکھا گیا، لیکن ’آشیرواد کا دیا‘وہی نام ہے جس کا استعمال  بی جے پی نے وزیر اعظم کی سالگرہ کے لیے اپنی اپیل میں کیا تھا۔

یہ دستاویز دکھاتے ہیں کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر شروع کی گئی سیاسی و تنظیمی مہم بہار میں محکمہ تعلیم کی انتظامی ہدایات کا حصہ بن گئی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ حکم صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں نجی اسکولوں اور ہاسٹلوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

WhatsApp Image 2026 09 18 at 10.47.26 768x1088 1

ہریانہ: مستفید خاندانوں کو دو- دو دیے، بوتھ سے سرکاری عمارتوں تک پروگرام

ہریانہ میں ’سیوا سنکلپ ابھیان‘کو سرکاری ایڈمنسٹریٹو مشینری کے ساتھ جوڑنے کی کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ پلول انتظامیہ کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق، ضلع کے 1,98,832 مستفید خاندانوں کے لیے 3,97,664 دیے مختص کیے گئے تھے، یعنی ہر خاندان کے لیے دو دیے۔ ان دیوں کو ڈپو ہولڈروں کے توسط سے تقسیم کیا جانا تھا۔

پلول ضلع انتظامیہ نے بوتھوں سے لے کر مذہبی مقامات اور سرکاری عمارتوں تک دیے جلانے کے منصوبے کی اطلاع دی تھی۔ ضلع میں ’آشیرواد کا دیا‘پروگرام کے ساتھ خون کے عطیے کے کیمپ کا بھی اہتمام کیا گیا۔

ہریانہ کے سونی پت میں چیف سکریٹری انوراگ رستوگی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ’سیوا سنکلپ ابھیان‘کی تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔ یعنی یہاں یہ مہم صرف بی جے پی کی تنظیمی سرگرمی تک محدود نہیں رہی بلکہ ضلع انتظامیہ کی سطح پر بھی اس کا جائزہ اور تال میل کیا گیا۔

اتر پردیش: 75 اضلاع میں 5.90 کروڑ دیے روشن کرنے کا دعویٰ

اتر پردیش میں بھی ’آشیرواد کا دیا‘بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا۔ ایک میڈیا رپورٹ میں ریاست کے تمام 75 اضلاع میں مجموعی طور پر 5.90 کروڑ دیے جلانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں لکھنؤ میں 21,23,900، سیتاپور میں 21,43,140، وارانسی میں 3,28,204 اور گوتم بدھ نگر میں 2,32,529 دیے جلانے کا اعدادوشمار دیا گیا ہے۔

yogi
لکھنؤ کے راشٹر پریرنا استھل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت منعقدپروگرام میں مٹی کا دیا ہاتھ میں لیے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: پی ٹی آئی

گوتم بدھ نگر میں انتظامی سطح پر کرشی وگیان کیندر، نوئیڈا اتھارٹی کے سیکٹر-96 میں واقع دفتر، جیور ڈیولپمنٹ بلاک آفس، ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹر، اولڈ ایج ہوم اور کستوربا گاندھی اسکولوں سمیت کئی سرکاری مقامات کو ’آشیرواد کا دیا‘پروگرام سے جوڑے جانے کی جانکاری سامنے آئی۔

اس کے علاوہ گوتم بدھ نگر کے بیسک ایجوکیشن  افسر کی جانب سے وہاٹس ایپ پیغام کے ذریعے تمام پرنسپلوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ چھٹی ہونے کے باوجود وہ اساتذہ کے ساتھ شام 7 بجے لازمی طور پر اسکول کے احاطے میں موجود رہیں اور دیے جلائیں۔ ساتھ ہی طلبہ سے کہا جائے کہ وہ اپنے گھروں میں دیے جلائیں اور اس کی تصویر وہاٹس ایپ گروپ میں شیئر کریں۔

مدھیہ پردیش: اجین میں 25 لاکھ سے زیادہ دیے

مدھیہ پردیش کے اجین میں وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر شپرا ندی کے گھاٹوں اور مہاکال لوک علاقے میں 25 لاکھ سے زیادہ دیے جلائےگئے۔ انتظامیہ نے اس پروگرام کو سات سیکٹراور 250 ذیلی سیکٹر میں تقسیم کیا تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، تقریباً 11,000 بلاک بنائے گئے تھے اور ہر بلاک میں 225 دیے رکھے گئے تھے۔ ہر بلاک پر دو دو رضاکاروں کی ذمہ داری تھی۔ دیوں کے ساتھ تیل، روئی، کافور، ماچس اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

سترہ ستمبر کی شام بی جے پی کے صدر نتن نوین اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اجین کے رام گھاٹ پہنچے اور پروگرام میں شرکت کی۔

گجرات: 88 لاکھ سے زیادہ دیوں کا منصوبہ

وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میں بھی یہ پروگرام بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ریاست میں 18,500 سے زیادہ مقامات پر 88 لاکھ سے زیادہ مٹی کے دیے جلانے کا منصوبہ تھا۔یہ پروگرام ’آشیرواد نو دوڈو‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔

احمد آباد میں وشو امیادھام کی جانب سے 76 ہزار دیے جلائے گئے۔ پروگرام میں وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل بھی شریک ہوئے۔ سورت میں بی جے پی کے صدر کی پہل پر 10,800 سے زیادہ جگہوں پر 10 لاکھ سے زیادہ مٹی کے دیے جلائے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ان مقامات میں مندروں، اسکولوں اور کمیونٹی بوتھوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

PTI09 17 2026 000371B scaled 1
گجرات کے احمد آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر کانکریا جھیل میں آرتی کرتے  گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

چھتیس گڑھ میں سرکاری احاطوں سے امرت سروور تک

چھتیس گڑھ میں بھی ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کو سرکاری پروگراموں سے جوڑا گیا۔ بالود ضلع میں امرت سرووروں پر دیے جلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ گرور ڈیولپمنٹ بلاک میں پنچایت سطح کے کچھ امرت سرووروں پر 500-500 اور کنیری امرت سروور پر 11 ہزار دیے جلانے کی تیاری کی گئی تھی۔

کوربا میں ضلع انتظامیہ نے 5.50 لاکھ دیے جلانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ 17 ستمبر کو مرکزی پروگرام میں گھنٹہ گھر چوک پر 51 ہزار سے زیادہ دیے جلائے گئے اور ریاست کے صنعت کے وزیر لَکھن لال دیوانگن بھی پروگرام میں شریک ہوئے۔

مغربی بنگال میں 8.5 لاکھ دیوں کی تیاری

مغربی بنگال میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کو صرف ’انا پورنا دیوس‘ کے طور پر منانے کا اعلان ہی نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر دیپ جلانے کی بھی تیاری کی گئی تھی۔

کولکاتہ میونسپل کارپوریشن نے 17 ستمبر کو وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر 8.5 لاکھ دیے خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے 17 اسمبلی حلقوں میں ہر ایم ایل اے کو 50-50 ہزار دیے تقسیم کرنے کا منصوبہ تھا۔

ایک ہی اپیل کی مختلف انتظامی شکلیں

مذکورہ تمام مثالوں کو ایک ساتھ دیکھیں تو ’آشیرواد کا دیا‘ کی صورت میں صرف گھروں میں وزیر اعظم کی سالگرہ پر نیک خواہشات پیش کرنے کی اپیل تک محدود نہیں رہی۔ بی جے پی نے اسے ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کا حصہ بنا کر ملک بھر میں تشہیر کی، لیکن اس کے بعد کئی ریاستوں میں سرکاری مشینری بھی اس سے جڑتی چلی گئی۔

اس طرح ایک پارٹی کی سطح کی اپیل اور ایک ایڈمنسٹریٹو پروگرام کے درمیان کی کئی جگہوں پر حد دھندلی نظرآتی ہے۔ تاہم تمام ریاستوں میں اس کی انتظامی نوعیت اور سرکاری شمولیت ایک جیسی نہیں تھی۔

میرا جنم دن نہ منائیں: مودی

اس پورے مہم کا ایک ڈیجیٹل پہلو بھی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے حوالے سے ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹ میں 2013 کا ایک پیغام سامنے آتا ہے، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ انہوں نے اپنی سالگرہ کبھی نہیں منائی، اس دن فون کال اور لوگوں سے ملاقات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور پروگراموں سے دور رہتے ہیں۔ یہ پوسٹ وزیر اعظم بننے سے پہلے کی ہے۔

اس کے برعکس  بعد کے دنوں میں وزیر اعظم کی سالگرہ کے حوالے سے بی جے پی اور نمو ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل شرکت کے نئے طریقے سامنے آئے۔ 2025 میں نمو ایپ پر ’اے آئی شبھ کامنا ریل‘ شروع کی گئی تھی، جس میں لوگ وزیر اعظم کے لیے ذاتی نوعیت کا اے آئی سے تیار کردہ سالگرہ کا پیغام بنا سکتے تھے۔

سال2026میں بھی سالگرہ کے موقع پر ’اے آئی شبھ کامنا‘ کے ذریعے وزیر اعظم کے ساتھ ذاتی نوعیت کی اے آئی سیلفی بنانے اور نمو ایپ پر ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ میں شامل ہونے کی ڈیجیٹل اپیل کی گئی۔ اس طرح سالگرہ کی تقریبات صرف زمینی پروگراموں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل اور ذاتی نوعیت کی مبارک باد کو بھی مہم کا حصہ بنایا گیا۔

دیوں اور تیل کا سوال

اس تقریب کا ایک اور پہلو تیل کی کھپت سے متعلق ہے۔ مئی 2026 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے کھانے کے تیل کا استعمال 10 فیصد کم کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے اس کی وجہ کھانے کے تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والی غیر ملکی کرنسی کو بتایا تھا اور تیل کی کھپت کم کرنے کو ’ملک کی خدمت‘ سے جوڑا تھا۔

وہیں،ستمبر میں وزیر اعظم کی سالگرہ پر لاکھوں دیے جلائے گئے۔ اجین میں 25 لاکھ سے زیادہ دیوں والے پروگرام کے لیے انتظامیہ نے دیوں کے ساتھ تیل اور روئی کا بھی انتظام کیا تھا۔ لیکن یہاں ایک ضروری فرق ہے؛ یہ واضح ثبوت دستیاب نہیں ہے کہ اجین میں استعمال ہونے والا پورا تیل وہی خوردنی تیل تھا جس کی کھپت کم کرنے کی وزیر اعظم نے اپیل کی تھی۔ اس لیے اسے براہ راست ’کھانے کے تیل کی بربادی‘ کہنا حقائق کی رو سے عجلت ہوگی۔

ایسے میں زیادہ درست سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پروگراموں میں استعمال ہوئے تیل، دیوں اور دیگر وسائل کی مجموعی مقدار اور لاگت کتنی تھی اور اس کی ادائیگی کس ذرائر سے کی گئی۔

سوال صرف دیے جلانے کا نہیں، ریاست اور پارٹی کےرول کا ہے

’آشیرواد کا دیا‘ پروگرام کو بی جے پی نے وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی زندگی اور ’خدمت‘ کے پیغام سے جوڑ کر شروع کیا۔ لوگوں سے گھروں میں دیا جلانے کی اپیل اپنے آپ میں ایک سیاسی مہم تھی۔ لیکن جب یہی مہم سرکاری اسکولوں، اساتذہ، انتظامی افسران، سرکاری عمارتوں، مستفید خاندانوں اور سرکاری وسائل تک پہنچتی ہے تو سوال اس کی نوعیت کا بن جاتا ہے۔

کیا یہ حکومت کی جانب سے عوامی شمولیت کا پروگرام تھا، بی جے پی کی تنظیمی مہم تھی، یا دونوں کا امتزاج؟ الگ الگ ریاستوں میں اس کا جواب الگ نظر آتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ