جنگ کی کیفیت برقرار، آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور پابندیوں پر شدید اختلافات اب بھی حل طلب
واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران کے اعلیٰ سطحی وفد اور اجلاس کے لیے درکار عملے کو ویزے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پزشکیان اور عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک اس سال 28 فروری سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ بڑے پیمانے پر جاری لڑائی اب رک چکی ہے، تاہم مستقل حل اب بھی دور ہے۔
آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت نامے (ایم او یو) کے تحت طے پانے والے کئی اہم معاملات بھی حل طلب ہیں۔ جوہری مسئلے، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔
فی الحال ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کے لیے کوئی معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔

