لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن، عمران خان کی بہنیں زیرِ حراست

398606 1677550117


پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کی کال کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ کو بھی لاہور میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کی جانب سے 20 ستمبر کو جاری کیے گئے حکم کے مطابق علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد عامر کو پنجاب ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔

انتظامیہ نے اس اقدام کی بنیاد امنِ عامہ اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کو قرار دیا ہے۔

عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اتوار کو حراست میں لیا گیا تھا جبکہ ان کی دیگر دو بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پیر کو لاہور میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کے حکم نامے کے مطابق کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور نے 20 ستمبر 2026 کے خط میں بتایا ہے کہ ایس پی سول لائنز ڈویژن اور انچارج ضلعی انٹیلی جنس برانچ کی اطلاعات کے مطاق نورین نیازی کی سرگرمیاں ’عوامی سلامتی اور امن عامہ کے لیے نقصان دہ‘ ہیں۔

ڈی سی لاہور کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا خواتین نو مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش میں ملوث تھیں اور اب انہوں نے کارکنوں کو عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا ہے۔ 

دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کو پارٹی اور گرفتار ایم این ایز کی فیملیز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللہ نیازی، ایم این اے ثنا اللہ مستی خیل کو پارلیمنٹ لاجز سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ ان کو آج صبح بتایا گیا کہ زیرِ حراست ارکان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے، جن میں سیف اللہ نیازی، ثنا اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داور خان اور محمد غوث کے نام شامل ہیں۔

ادھر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ایک سابق وزیر اعظم کے پورے خاندان کو اٹھایا جائے گا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی چادر اور چار دیواری کی حرمت پامال کی جائے گی تو ملک کس طرف جائے گا؟‘

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اگر کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت نہیں کی جائے گی تو ملک کس طرف جائے گا؟‘

جڑواں شہروں میں سخت سکیورٹی انتظامات  

پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی کال سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات بھی سخت کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد کے ریڈ زون کی جانب جانے والے راستوں پر کنٹینرز لگانے سمیت پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔  

حکومت کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سڑکوں اور عوامی راستوں کی بندش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کہہ چکے ہیں کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جب کہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ 

جماعت اسلامی کا لانگ مارچ

جماعتِ اسلامی کی جانب سے بھی کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ جاری ہے۔ 

جماعت اسلامی کے مطابق مارچ کے شرکا مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں پیٹرولیم لیوی میں اضافے، مہنگائی، بجلی کے بلوں اور دیگر عوامی مسائل پر احتجاج کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کی قیادت نے حکومت سے عوام کو ریلیف دینے اور اپنے مطالبات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات بھی اہم ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پی ٹی آئی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

یوں آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں ایک ہی وقت میں مختلف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیوں کے باعث سکیورٹی اور ٹریفک کی صورت حال توجہ کا مرکز رہے گی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ