ماسکو: یوکرین نے اتوار کو روسی دارالحکومت ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق یہ حملہ پارلیمانی انتخابات کے آخری روز انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش تھی۔ صدر ولادیمیر پوتن ان انتخابات کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے عوامی حمایت کا امتحان قرار دے چکے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق ماسکو کے اطراف کے علاقے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دارالحکومت کی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس پر اس سے قبل بھی حملے ہو چکے ہیں۔ عینی شاہدین نے ماسکو میں دھماکوں کی آوازیں سنیں اور ریفائنری کے مقام سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے۔ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ تنصیب کو کتنا نقصان پہنچا۔ یوکرین کی جانب سے کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
سوبیانین نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ دشمن کے ڈرونز کا سب سے بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ان کے مطابق کل سے اب تک تمام محاذوں پر 1,600 سے زیادہ ڈرون مار گرائے گئے، جن میں 450 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ایک ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرایا، تاہم عمارت کے مکینوں میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ سوبیانین نے کہا کہ یہ حملہ واضح طور پر انتخابات میں خلل ڈالنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، مگر دشمن کامیاب نہیں ہوا۔
روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں اسٹیٹ ڈوما کے یہ انتخابات فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف مکمل جنگ شروع ہونے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ توقع ہے کہ حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا اپنی سیاسی بالادستی برقرار رکھے گی۔

