واشنگٹن — جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکہ اس کے خلاف فوجی دباؤ کم کرنے کے لیے ابتدائی اقدامات اٹھائے تو تہران سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔ ایک نامعلوم ایرانی اہلکار کے مطابق یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے پہلے ہی واشنگٹن تک پہنچائی جا چکی ہے۔ تاہم انادولو ایجنسی اس بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکی۔
اہلکار کے مطابق تجویز میں دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے نئے مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کی خبروں کو مسترد کیا، لیکن کہا کہ "معاہدے کی طرف بڑھنے کا امکان موجود ہے،” بشرطیکہ واشنگٹن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
خیال رہے کہ فروری میں امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑی تھی، اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، اور جون میں اسلام آباد میمورنڈم پر دستخط ہوئے۔ تاہم کشیدگی دوبارہ بھڑک اٹھی: امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بحال کی جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا۔

