غزہ سمیت مسئلہ کشمیر پر ترک صدر کا اہم بیان سامنے آگیا
مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے تحت حل کرنا ضروری ہے، رجب طیب اردگان
نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہ کرنے پر افسوس ہوا جب کہ انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کرنے والے ممالک سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
رجب طیب اردگان نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور غزہ کی پٹی بچوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بن چکی ہے۔ انہوں نے غزہ کو موت کا کیمپ بھی قرار دیا۔
ترک صدر کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث مجموعی طور پر 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ آبادکاروں کے تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہے، جہاں آبادکاروں کی جانب سے دہشت گردی کی جارہی ہے۔
رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ امن برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے۔
ترک صدر نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مکہ اتحاد سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد کے ذریعے یکجہتی کو مستحکم کیا جارہا ہے جب کہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے کی ذمہ داری خطے کے ممالک کے پاس رکھنا ہے۔
رجب طیب اردگان کہتے ہیں کہ خطے کے مسائل کا حل خطے کے اندر سے تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ترک صدر نے عالمی فورم پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے تحت حل کرنا ضروری ہے۔

