امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ہوائی اڈے پر چینی صدر شی جن پنگ کا ذاتی طور پر استقبال کیا جس کے بعد ایک شاندار سرکاری دورے کا آغاز ہوا جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور تجارت سے لے کر ایران تک ہر معاملے پر دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق توقع ہے کہ یہ سربراہی ملاقات ٹھوس نتائج کی بجائے دکھاوے پر زیادہ مبنی ہو گا، تاہم اس وقت ابتدائی پیش رفت سامنے آئی جب واشنگٹن نے بیجنگ کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کیا جس کی مدت نومبر میں ختم ہونے والی ہے۔
حکام کی جانب سے باقاعدہ سرخ قالین بچھائے جانے کے بعد، واشنگٹن کے باہر امریکی فوجی ہوائی اڈے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر چینی صدر کے طیارے سے نیچے اترتے ہی ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا نے شی اور ان کی اہلیہ پنگ لیوان سے مصافحہ کیا۔
لمبا کوٹ اور دستانے پہنے ٹرمپ اور شی پھر رن وے پر ایک ساتھ کھڑے ہوئے، جب کہ فوجی بینڈ نے قومی ترانے بجائے۔
دو بی ون بمبار طیاروں کے شور والے فلائی اوور نے 80 سالہ ٹرمپ کو واضح طور پر چونکا دیا، جنہوں نے جیٹ طیاروں کی گرج پر منہ بنایا، جب کہ ان کے چینی مہمان بغیر کسی تاثر کے کھڑے رہے۔
ٹرمپ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ مئی میں ان کے دورہ بیجنگ کے موقع پر شی نے ہوائی اڈے پر ان کا اس طرح استقبال نہیں کیا تھا۔
صدر شی کا استقبال کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ ایک زبردست اور مختصر سی ملاقات تھی، ایک شاندار استقبال تھا، اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اسے سراہتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران، مصنوعی ذہانت، تجارت
اس شاندار دورے میں — جو امریکی رہنما کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد شی اور ٹرمپ کے درمیان تیسری ملاقات ہے۔ جمعرات کو ایک باضابطہ استقبال اور ایک اور فلائی اوور، اوول آفس میں مذاکرات اور وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری ضیافت شامل ہو گی۔
اس دورے کا اختتام جمعے کی صبح ہو گا جب دونوں صدارتی جوڑے وائٹ ہاؤس میں چائے پئیں گے اور پھر نیشنل آرکائیوز کا دورہ کریں گے، جہاں امریکی اعلان آزادی موجود ہے۔
کسی بھی بڑی پیش رفت کی توقعات کم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس شان و شوکت کا بنیادی مقصد دونوں حریف عالمی طاقتوں کے درمیان موجود نازک امن کو برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو اس بات کی تصدیق کی کہ ایران جنگ ایجنڈے کا حصہ ہو گی، باوجود اس کے کہ انہوں نے اس سے قبل ان خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی کہ تنازع طویل ہونے کے ساتھ بیجنگ تہران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔
صحافی کے اس سوال پر کہ کیا وہ ایران کا معاملہ اٹھائیں گے؟ تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اس بارے میں اور دیگر کئی موضوعات پر بات کروں گا لیکن اس سمیت سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے۔‘
گذشتہ سال ٹرمپ کے وسیع ٹیرف کی وجہ سے سلگتی ہوئی تجارتی جنگ کے حوالے سے، امریکی ٹریژری سکاٹ بیسنٹ نے بدھ کو سربراہی اجلاس سے قبل ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ یہ ’اقتصادی مفاہمت‘ اب 10 نومبر کی مقررہ تاریخ سے آگے بڑھ کر 10 جنوری تک جاری رہے گی۔

