جمعرات کو دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے ارکان۔ تصویر: ایکس/ کاکروچ جنتا پارٹی
کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے علاوہ ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے یہ سوال بھی پوچھا کہ گیانیش کمار نے کس کے آرڈر پر کام کیا۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ آئندہ ہونے والے تمام انتخابات ملتوی کیے جائیں، ایس آئی آر کو روکا جائے اور اس سے متعلق فیصلہ سازی کے پورے عمل کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جمعرات (24 ستمبر) کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 48 گھنٹے کے اندر استعفیٰ نہیں دیا تو سی جے پی ملک گیر تحریک شروع کرے گی۔
اس پریس کانفرنس سے سی جے پی کے قومی کنوینر ابھجیت دیپکے اور شریک کنوینرز آشوتوش رانکا اور سوربھ داس نے خطاب کیا۔
گروپ نے الیکشن کمیشن پر انڈین ایکسپریس کی بڑی پڑتال کے بعد ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق حالیہ انکشافات کے پیش نظر سی جے پی کی قیادت نے کل کے اپنے تمام پروگرام رد کر دیے ہیں۔ اس کے بجائے وہ دہلی میں ’ہندوستان کی جمہوریت کو ہائی جیک کیے جانے‘کے معاملے پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرے گا۔
ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ایس آئی آر سے متعلق فیصلے بڑے پیمانے پر آئین کے آرٹیکل 324 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے گئے۔ اس آرٹیکل میں یہ اہتمام ہے کہ الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جائیں اور ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت میں اکثریت کی رضامندی سے فیصلے کیے جائیں۔ لیکن ایکسپریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ ایس آئی آر عمل سے متعلق کمیشن کے نام سے جاری کیے گئے بیشتر احکامات پر الیکشن کمشنروں کی اکثریت کی رضامندی حاصل نہیں تھی۔
جمعرات کی پریس کانفرنس میں سی جے پی نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کے علاوہ کئی دیگر مطالبات بھی سامنے رکھے۔
سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف فوجداری مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ گیانیش کمار نے کس کے آرڈر پر کام کیا۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ ہونے والے تمام انتخابات ملتوی کیے جائیں اور ایس آئی آر کے عمل کو بندکیا جائے۔ جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ بحال کی جائے اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلہ سازی کے پورے عمل کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سپریم کورٹ ایس آئی آر سے متعلق تمام فائلیں فوری طور پر اپنے قبضے میں لے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ریکارڈ ضائع نہ ہو یا اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جا سکے یا اسے غائب نہ کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ، الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت کار) ایکٹ، 2023 کو رد کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کی جگہ ایسا نیا قانون بنایا جائے جو عوام کا اعتماد حاصل کر سکے۔ سی جے پی نے اس عمل میں سول سوسائٹی کے ارکان کی فعال شرکت یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
سی جے پی نے کہا ہے کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ کے بغیر وہ اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا،’چیف الیکشن کمشنر سب سے بڑے دیش دروہی (غدار) ہیں۔ انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے، کیونکہ وہ ہندوستان کی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کا کیا مطلب تھا؟ جمہوریت کا مطلب تھا کہ عوام حکومت منتخب کریں گے۔ لیکن جب سے گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر بنے ہیں، تب سے حکومت یہ طے کر رہی ہے کہ کسے ووٹ دینے کی اجازت ہوگی اور کسے نہیں۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟ جمہوریت کی یہ کیسی تعریف ہے؟ آپ نے پوری جمہوریت کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔‘
نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دیپکے نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اکثریت کے ہندسے تک نہ پہنچ پانے کے بعد ’پینک بٹن دبا دیا گیا تھا۔‘
انہوں نے کہا، ’ بی جے پی 2024 کے انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ اکثریت نہ ملنے پر پینک بٹن دبا دیا گیا۔ ’400 پار‘ کا نعرہ دینے کے بعد بی جے پی 240 نشستوں تک محدود ہو گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ملک کا مزاج بدل رہا ہے اور علاقائی طاقتیں بہت مضبوطی سے ابھری ہیں۔ ‘
دیپکے نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’ چاہے مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے ہوں، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) ہوں، تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن، کیرالہ میں پنارائی وجین، دہلی میں اروند کیجریوال یا مغربی بنگال میں ممتا بنرجی ہوں، ان تمام وزرائے اعلیٰ کو ایک ایک کرکے شکست دی گئی۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا، اس میں ایک پیٹرن دکھائی دیتا ہے۔‘
دیپکے نے الزام لگاتے ہوئے کہا، ’ یہ تمام وزرائے اعلیٰ 2024 میں ایک ساتھ آئے تھے اور انہوں نے مل کر انتخابی مہم چلائی تھی۔ پھر انہیں ایک ایک کرکے ختم کر دیا گیا؟‘
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی سیٹ سے 50 ہزار ووٹ حذف کیے گئے اور وہ تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے ہار گئیں۔ اسی طرح اسٹالن کی سیٹ سے ایک لاکھ ووٹ حذف کیے گئے اور وہ تقریباً 45 ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ دہلی میں کیجریوال کی سیٹ سے 40 ہزار ووٹ حذف ہوئے اور وہ تقریباً 4 سے 5 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔
Mamata Banerjee’s constituency:
51k votes deleted. She lost by 15k.M.K. Stalin’s constituency:
1 lakh votes deleted. He lost by 9k.Arvind Kejriwal’s constituency:
40k votes deleted. He lost by 4k.Was this the real reason behind the introduction of SIR?…
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) September 24, 2026
دیپکے نے کہا،’ہمیں کسی اپوزیشن پارٹی سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ لیکن اگر جمہوریت میں آپ پوری اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو کیا وہ جمہوریت رہ جائے گی؟ کیا یہ آزاد اور منصفانہ انتخابات ہیں؟‘
انہوں نے مزید کہا،’یہ کوئی حالیہ مسئلہ نہیں ہے۔ 2015-16 میں مدھیہ پردیش کی حکومت گرا دی گئی تھی۔ کرناٹک کی حکومت بھی گرا دی گئی تھی۔ گوا میں بھی ہم نے دیکھا کہ محض 10 نشستیں رکھنے والی ایک پارٹی نے راتوں رات حکومت بنا لی۔‘
واضح ہو کہ اب تک ملک بھر میں ایس آئی آر کے عمل کے ذریعے ووٹر لسٹوں سے 12 کروڑ نام ہٹائے جا چکے ہیں۔

