ایک طرف امریکا میں اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں امن کی تلاش کی کوششیں نظر آرہی ہیں۔ چین کے صدر شی امریکا کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ساتھ خود ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے گئے ہیں۔ کہا جا رہا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ امریکی صدر اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی غیر ملکی سربراہ کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ جائیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ساتھ چینی صدر کے استقبال کے لیے پہنچے ہیں۔
ایک امید ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان حالیہ سربراہی ملاقات میں امریکا ایران جنگ سمیت دیگر اہم عالمی تنازعات کا کوئی حل نظر آئے گا۔ایسی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکا چین اور ایران کے صدور اکٹھے بھی مل سکتے ہیں۔ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان ایک تین گھنٹے کا طویل مذاکراتی سیشن ہو چکا ہے۔
اس لیے ایک امید ہے کہ امریکا چین مل کر کوئی حل نکالیں گے۔ لیکن ایران سے جیسی آوازیں اور شرائط سامنے آرہی ہیں۔ ان سے فی الحال کوئی بڑا بریک تھرو ممکن نظر نہیں آرہا۔ تاہم جس قسم کا پروٹوکول چینی صدر کو دیا گیا ہے وہ امریکا کی طرف سے غیر معمولی ہے۔ اس لیے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید پردے کے پیچھے کچھ طے ہوگیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اگلے دو دن میں کیا ہوتا ہے۔
عرب ممالک بھی شدید سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ جی سی سی ممالک کے رہنماؤں کی بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں اب تک جو خبریں سامنے آئی ہیں وہ تو یہی بتا رہی ہیں کہ عرب ایران امریکا لڑائی کا کوئی حل چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھل جائے۔ تیل کی ترسیل شروع ہو جائے۔ شائد کہیں نہ کہیں عرب ایران کے ساتھ براہ راست سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن امریکا کے بغیر یہ سمجھوتہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ عرب ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ ہو جائے۔ ایران کبھی کسی عرب ملک پر حملہ نہیں کرے گا۔
کوئی ڈرون نہیں مارے گا۔ جواب میں ایران چاہتا ہے کہ عرب ممالک یہ گارنٹی دیں کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔یہ کافی مشکل ہے۔ عرب ممالک امریکا کی گارنٹی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ اگر چاہیں بھی تو یہ گارنٹی نہیں دے سکتے کہ ان کی ائیر سپیس استعمال نہیں ہوگی۔ امریکا ان کے اوپر سے تو گزر ہی جائے گا۔ باقی جہاں تک آبنائے ہرمز کے کھلنے کا تعلق ہے وہاں بھی عرب ممالک بے بس ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکا نے جو نیول بلاکیڈ لگایا ہواہے وہ ہٹا دیا جائے۔ وہ بھی عرب ممالک کے بس میں نہیں ہیں۔
جہاں تک منجمد اثاثوں کا تعلق ہے عرب پیسوں کا لین دین تو کر سکتے ہیں۔ ایران کو عربوں سے پیسے مل سکتے ہیں لیکن جو کام امریکا نے کرنے ہیں، عرب اس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ وہ معاملات ایران نے امریکا سے خود ہی طے کرنے ہیں۔ امریکا دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کر ے گا یہ گارنٹی بھی عرب نہیں دے سکتے۔ اسرائیل کی گارنٹی بھی نہیں دے سکتے۔ اس لیے عربوں اور ایران کے درمیان معاملات حل ہونے میں بھی بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ عرب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز پر امن کی تلاش میں نظرآرہے ہیں۔
تا ہم اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر حوثیوں کے مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ ویسے تو اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر پہلی باضابابطہ میٹنگ ہی مکہ دفاعی معاہدہ کا اجلاس ہے۔ پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے ممالک کے اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدہ کے حوالے سے اہم فیصلے ہوئے۔ جس کے بعد پاکستان نے لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعمان محمود کومکہ دفاعی معاہدہ کا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)نعمان محمود کور کمانڈر بھی رہے ہیں اور آئی ایس آئی میں بھی اہم تعیناتی پر رہے ہیں۔ ان کی تعیناتی بطور مکہ دفاعی معاہدہ کے سیکریٹری جنرل بتا رہی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہے اور اس کا اگلا کردار کافی اہم ہے۔
ویسے تو سعودی عرب پاکستان، ترکی اور مصر کے وزراء خارجہ کی بھی اقوام متحدہ سائیڈلائنز پر ملاقات ہوئی ہے۔ یہ اتحاد بھی اہم ہے۔ یہ ایران کی ثالثی کے لیے قائم ہوا تھا۔ بعدازاں مصر مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا تھا۔ لیکن حوثیوں والے معاملے میں مصر کی ایک خاص اہمیت ہے۔ پہلے چینی صدر مصر کے دورے پر گئے ہیں۔ اس کے بعد سعودی ولی عہد بھی مصر کے دورے پر گئے ہیں۔ اس لیے مصر چاہے مکہ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے لیکن اس کی اہمیت کم نہیں ہے۔
پاکستان اور ایران وزراء خارجہ کے درمیان بھی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان جو تین گھنٹے کے مذاکرات ہوئے ہیں ان میں پاکستان نے ثالثی نہیں کی ہے۔ اس میں قطر کی ثالثی کی خبریں آئی ہیں۔ پاکستان محتاط ہے۔ پاکستان نے خود کو ثالثی کے عمل سے علیحدہ نہیں کیا۔ لیکن مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی پہلی ترجیح بنتا نظر آرہا ہے۔ اسی لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورہ ایران سے بھی کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کی بھی اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان میں یورپی یونین سے ملاقاتیں اہم ہیں، کویت کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اہم ہیں۔ او آئی سی کا کشمیر پر اجلاس بھی اہم رہا ہے۔ اس دفعہ اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر بھارت کافی کمزور نظر آرہا ہے۔
اس کی سفارتی سرگرمیاں بھی کمزور نظرآرہی ہیں، اس کا ایران جنگ میں بھی کوئی کردار نہیں، حوثیوں کے معاملے میں بھی کوئی کردار نہیں۔ حتیٰ کہ تیسری جنگ جو اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر کافی اہمیت میں نظر آرہی ہے، وہ روس اور یوکرین کی جنگ ہے۔ اس میں بھی بھارت کی کوئی اہمیت نہیں۔ یوکرین اب جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرین کے صدر کی تقریر اور ان کی سائیڈ لائنز پر کاوشیں جنگ بندی کے لیے نظر آرہی ہیں۔ تاہم روس ابھی تک مانتا نظر نہیں آرہا۔ یورپ کو بھی اس جنگ سے اب خطرات ہیں۔ جو نظر آرہے ہیں۔

