ریاض: سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح بن فوزان الفوزان نے سرحدوں پر تعینات فوجیوں اور یمن میں حوثی گروپ کے خلاف کارروائی کرنے والی اتحادی افواج سے صبر، ثابت قدمی اور چوکسی کے ساتھ اپنے کمانڈروں کے احکامات کی پابندی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے حوثیوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور فوجیوں کو ملک کے دفاع کے لیے جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی۔
یہ بیان سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا۔ ۱۴ ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں میزائل اور ڈرون حملوں سے ۱۳ شہری زخمی ہوئے۔ جمعرات کو حوثیوں نے درجنوں میزائل و ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی افواج نے ۶ بیلسٹک میزائل ناکام بنائے۔
دریں اثناء سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہنگامی اعلیٰ سطحی فوجی اجلاس کی تیاری شروع کر دی۔ نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، پاکستانی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان کے مابین اس سلسلے میں ملاقات ہوئی۔ یہ معاہدہ ۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مکہ میں طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔

