نیویارک، — ریاستِ فلسطین کے پریس سیکریٹری نبیل ابو رودینے نے کہا ہے کہ فلسطین کو نظرانداز کرنے اور اس کے عوام کی آواز دنیا تک پہنچنے سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ سرکاری خبر ایجنسی وفا کے مطابق ابو رودینے نے کہا کہ صدر محمود عباس اور ان کے وفد کو جنرل اسمبلی میں خطاب سے روکنے کے باوجود فلسطینی عوام کی آواز دنیا کے تمام براعظموں میں زور و شور سے سنی جارہی ہے۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ امریکہ کی جانب سے صدر عباس اور فلسطینی وفد کو ویزے نہ دیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی نے عباس کو بذریعہ ویڈیو خطاب کی اجازت کے فیصلے کو 152 کے مقابلے صرف 3 مخالف ووٹوں سے منظور کیا، جسے انہوں نے "بین الاقوامی ریفرنڈم” اور فلسطینی حقوق کی وسیع عالمی حمایت کا مظہر قرار دیا۔
ابو رودینے کے مطابق فلسطینی قیادت 1967ء کی سرحدوں میں، مشرقی بیت المقدس کو دار الحکومت بناتے ہوئے، مکمل خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک سیاسی، سفارتی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ صدر عباس نے اپنے ویڈیو خطاب میں اسرائیلی پالیسیوں کو فلسطینیوں کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو ایک اور "نکبہ” سے خبردار کیا۔

