یمن: 3 ہفتوں کے دوران 71 ہزار بچے بے گھر، یونیسف کا اظہارِ تشویش


جنیوا: یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران بڑھتے ہوئے مسلح تصادم نے بچوں کے لیے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ یونیسف کے مطابق گزشتہ 3 ہفتوں میں تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً 71 ہزار بچے شامل ہیں۔ زیادہ تر متاثرہ خاندان صوبہ تعز یا اس کے اندرونی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
یونیسف کے یمن میں نمائندے اکیل ایئر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ تنازع بھوک کو بڑھاتا ہے اور بھوک بچوں کو مزید غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ ادارے کی موبائل غذائی ٹیموں نے قابلِ رسائی علاقوں میں تقریباً 2,900 بچوں کا معائنہ کیا، جن میں ایک چوتھائی سے زائد شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔ یونیسف کے مطابق 2026ء میں یمن بھر میں 5 سال سے کم عمر کے 22 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ستمبر کے آغاز سے کم از کم 15 بچے ہلاک اور 14 زخمی ہوئے جبکہ 3 لاپتہ ہیں۔ لڑائی سے 243 اسکول بند یا معطل ہوئے، جس سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار طلبہ متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق آئندہ 3 ماہ میں مزید ایک لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ یونیسف نے فریقین سے بچوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ