اقوام متحدہ کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے منسلک کمپنیوں کی فہرست میں 61 نئی کمپنیاں شامل

set 260926 d


نیویارک: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے اپنے ڈیٹا بیس میں 61 نئی کمپنیاں شامل کر دی ہیں، جس کے بعد فہرست میں شامل کمپنیوں کی مجموعی تعداد 11 ممالک کی 214 کمپنیوں تک پہنچ گئی ہے۔
فہرست میں شامل کمپنیوں کا تعلق اسرائیل، جنوبی افریقہ، چین، امریکہ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، اسپین، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور میکسیکو سے ہے۔ دفتر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اپ ڈیٹ گزشتہ سال کے جائزے میں زیر غور رہنے والی 381 کمپنیوں میں سے 126 کے جائزے کے بعد کی گئی، جبکہ 5 کمپنیوں کو فہرست سے خارج کر دیا گیا کیونکہ دفتر نے یہ ماننے کی معقول بنیادیں پائیں کہ ان کی متعلقہ سرگرمیوں میں شمولیت ختم ہو چکی ہے۔
اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا بیس میں بڑے آن لائن بکنگ پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے علاوہ بینکنگ، مالیاتی خدمات، ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، نقل و حمل، توانائی، زراعت، خوراک کی پیداوار، کچرے کے انتظام اور مہمان نوازی کے شعبوں سے وابستہ کاروبار بھی شامل ہیں۔ دفتر کے مطابق 214 میں سے 200 کمپنیوں کو حقِ خود ارادیت پر منفی اثرات میں معاون قرار دیا گیا جبکہ 14 کو براہ راست ایسے اثرات سے منسلک سمجھا گیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ یہ رپورٹ کمپنیوں کے لیے ایک اور یاد دہانی ہے کہ ان پر انسانی حقوق کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مناسب جانچ پڑتال کریں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ ڈیٹا بیس پہلی بار 2020ء میں جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد 2023ء اور 2025ء میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔ اس وقت تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار قابض اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں 156 غیر قانونی بستیوں اور 360 بستیوں کی چوکیوں میں مقیم ہیں، جن میں مقبوضہ مشرقی یروشلم بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ