سیلاب آیا نہیں محکمہ آبپاشی سندھ نے 77 کروڑ روپے روکنے پر خرچ کر ڈالے

chenab flood1756290505 0



کراچی:

سندھ حکومت کے سامنے گزشتہ سال کوئی بڑا سیلابی ہنگامی منظر نامہ نہ ہونے کے باوجود 770 ملین روپے (77 کروڑ روپے) کا "سیلاب سے نمٹنے” کا بل پیش کر دیا گیا ہے، جس سے سرکاری فنڈز کی اس مانگ پر سوالات اٹھ  گئے ہیں جن کے بارے میں آبپاشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامی حفاظتی کاموں پر خرچ کیے گئے۔

دی ایکسپریس ٹریبیون کو یہ معلومات موصول ہوئی ہیں۔محکمہ آبپاشی سندھ نے ایک محکمانہ سمری کے مطابق فلڈ فائٹنگ 2025 کے دوران انجام دیے جانے والے کاموں کے سلسلے میں مبینہ واجبات کی مد میں 770 ملین روپے سے زائد کی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی ہے۔

تاہم ذرائع کا الزام ہے کہ دستاویزات میں درج کئی کام یا تو کیے ہی نہیں گئے تھے یا ان کے اخراجات بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے۔یہ تنازع چیف انجینئر جنید تالپور کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کردہ ایک سمری کے گرد گھومتا ہے۔

بعد ازاں مرکزی تکنیکی کمیٹی نے دعویٰ کردہ اخراجات کی منظوری دے دی، جبکہ چیف انجینئرز نے مبینہ طور پر ان بلوں کی تصدیق کی۔

محکمہ آبپاشی نے اضافی فنڈز کی مانگ کا دفاع کرتے ہوئے سیمنٹ، اسٹیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے کا حوالہ دیا ہے۔

تاہم آبپاشی ماہرین نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ ایسے سال میں جب صوبے کو کسی بڑے سیلابی ہنگامی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اتنی بڑی رقم خرچ کرنا کہاں تک جائز تھا۔

ایکسپریس ٹریبون سے بات کرتے ہوئے سندھ چیمبر آف ایگری کلچر کے سیکرٹری اطلاعات میر عبدالکریم تالپور نے کاموں کے آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ (فریقِ ثالث کے ذریعے جانچ) کا مطالبہ کیا اور تجویز پیش کی کہ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا یہ منصوبے حقیقت میں مکمل بھی ہوئے تھے یا نہیں، سیمنٹ اور اسٹیل پر بھاری اخراجات کے دعوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ درخواست کردہ فنڈز کی منظوری سے پہلے سمری کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دیں۔ذرائع کے مطابق، سرکاری دستاویزات میں پشتے (بند) کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کے طور پر بیان کردہ کام کئی مقامات پر کیے ہی نہیں گئے، دعویٰ کردہ اخراجات کو درست ثابت کرنے کے لیے تعمیراتی مواد، ڈیزل، مشینری اور مزدوری کے اخراجات کا سہارا لیا گیا۔

آبپاشی سیکریٹری ظریف کھییرو اور تکنیکی کمیٹی کے چیئرمین ریاض شاہ کا مؤقف جاننے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئیں، مگر دونوں میں سے کسی نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سندھ ایگری کلچر بورڈ کے چیئرمین محمود نواز شاہ نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کے آبپاشی نظام کی ابتر حالت، غیر منصفانہ پانی کی تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں  پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے، جبکہ آبپاشی کے نظام کے مسائل کسانوں اور کاشتکاروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرمت کے لیے جاری فنڈز کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ زمین پر اس کے برعکس کوئی خاص بہتری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے دو سال قبل سکھر بیراج کا گیٹ ٹوٹنے اور روہڑی کینال کے ڈھانچے کے ایک حصے کے منہدم ہونے کا حوالہ دیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ