خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر، وفاقی وزرا کی پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید

389440 1227444257


وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے، سکیورٹی فورسز کو وسائل فراہم نہ کرنے اور صوبے میں خراب طرز حکمرانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن صوبائی حکومت کی قیادت، وسائل اور اختیارات کے استعمال میں خامیاں موجود ہیں۔

انہوں نے ہفتے کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کے بعد وہاں ’بہت طویل‘ پریس کانفرنس کی لیکن افغانستان کی مذمت نہیں کی۔

طلال چوہدری نے سوال کیا کہ ’انہوں نے افغانستان کی مذمت کیوں نہیں کی؟ آپ کا افغانستان کے بارے میں رویہ نرم کیوں ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اصل دشمن اور ان پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کرنے والے ذریعے کا نام لے کر مذمت کرنی چاہیے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں پاکستان آتی ہیں اور ان میں سے 70 فیصد دہشت گرد افغانستان کے رہائشی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام سے مذاکرات، ڈوزیئرز اور بین الاقوامی فورمز سمیت ’ہر طریقے‘ سے اپنے تحفظات پہنچائے لیکن ’ہمارا ہمسایہ اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔‘

طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ہے اور ’ڈالرز لے کر دہشت گرد یہ کارروائیاں کرتے ہیں۔‘ ان کے بقول افغانستان اس معاملے میں ’سپر پراکسی‘ کا کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان میں امن میلہ چیک پوسٹ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے جبکہ دہشت گردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ڈی آئی خان حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کا تعلق کابل سے ہے۔

ان کے مطابق حملے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک تصویر کو اوپن سورس معلومات کے ذریعے چیک کیا گیا تو اس شخص کا تعلق افغانستان کے دارالحکومت کابل سے سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اکثر جعلی نام استعمال کرتے ہیں۔

’سکیورٹی فورسز کو نہ قیادت دی گئی نہ وسائل‘

طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت گزشتہ 14 سال میں سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑی نہیں ہوئی اور صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کو نہ قیادت دی گئی نہ وسائل دیے گئے۔‘

ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کو دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں سیاسی سرگرمیوں کے لیے واپس کردی گئیں جبکہ پولیس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے پولیس کا اختیار واپس لینے کی کوشش کی گئی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی کے معاملات سے متعلق اجلاسوں میں صوبائی حکومت کے نمائندے شریک نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا، ’این ایف سی کے حصے لینے آ جاتے ہیں، انسداد دہشت گردی اجلاسوں میں نہیں آتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات متفقہ تھے۔

’پی ٹی آئی قیادت ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے‘

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت پر مزید سخت الزامات عائد کیے۔

انہوں نے کہا، ’اپنے موقف پر قائم ہوں کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے‘ جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اے این پی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانیاں دے چکی ہے۔

انہوں نے سوال کیا، ’صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟‘

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت کی ’نیت اور طبیعت خراب ہے‘ اور ’یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہیں۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو سیاسی ونگ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور پولیس کے بجائے فنڈز دھرنوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

عطا تارڑ کے مطابق وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے لیے جدید گاڑیاں دینے کی پیشکش کی لیکن صوبائی حکومت نے انہیں لینے سے انکار کردیا۔

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور فنڈز کا معاملہ

عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت انہیں جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی۔

ان کے بقول یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے سے خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے کے باوجود صوبے کے عوام بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے سوال کیا کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال خیبر پختونخوا حکومت کو اربوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں اور ’کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والا پیسہ انہوں نے کہاں خرچ کیا ہے؟‘

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت ہر شعبے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ ’سہیل آفریدی انتظامی طور پر ناکامی کے بعد اب سیاسی طور پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’صوبے کے اندر تباہی و بربادی پھیل چکی ہے، دہشت گردی خود صوبائی حکومت نے پھیلائی، اس کا تدارک نہیں کیا۔‘

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پبلک سروس کمیشن کو ختم کرکے تمام تقرریوں کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

بلوچستان حکومت کی تعریف

وفاقی وزیر اطلاعات نے بلوچستان حکومت کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو ’بہادر اور باصلاحیت‘ وزیراعلیٰ قرار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نیشنل ایکشن پلان کے اجلاسوں میں سہیل آفریدی اور سرفراز بگٹی کی شرکت کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی کو سلام پیش کرنا چاہیے جو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد ہو رہا ہے اور کہا، ’پی ٹی آئی کو نہ نیشنل کا پتہ ہے، نہ ایکشن کا اور پلان سے بھی یہ لاعلم ہیں۔‘

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا مؤقف

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہفتے کو ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دہشت گردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کی نئی لہر میں صوبے کے شہری، پولیس اہلکار اور فوجی جانیں گنوا رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس عرصے کے دوران صوبے میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کیے گئے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ