آئرش فٹ بالرز کا اسرائیلی ترانے پر سر جھکا کر احتجاج، ہاتھ ملانے سے بھی انکار

398736 2014369490


آئرلینڈ نے اتوار کو نیشنز لیگ کے ایک مقابلے میں اسرائیل کو 3-0 سے شکست دی جبکہ میچ کے دوران غزہ میں جاری جنگ کے خلاف آئرش کھلاڑیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج بھی کیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ ہنگری کے شہر ڈیبریسن کے تقریباً خالی سٹیڈیم میں جب اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا گیا تو آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے سر جھکا لیے۔

دونوں ٹیموں نے میچ سے قبل روایتی مصافحہ بھی نہیں کیا اور نہ ہی ایک دوسرے کو روایتی طور پر جھنڈے پیش کیے۔

ٹروئے پیراٹ نے 14ویں منٹ میں گول کرنے کے بعد ہاتھوں سے دل کا نشان بنایا، جبکہ جیک موائلن نے 25ویں منٹ میں آئرلینڈ کا تیسرا گول کرنے کے بعد اپنی جرسی پر موجود آئرش بیج اور سیاہ پٹی کو بوسہ دیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کھلاڑیوں کے اقدامات پر آئرلینڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ’تاریخ کے غلط رخ پر‘ کھڑا ہے۔

سار نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں 1939 کی آئرش ٹیم کا حوالہ دیا، جس نے جرمنی کے شہر بریمن میں جرمنی کے خلاف میچ سے قبل نازی سلیوٹ کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران آئرلینڈ کی غیر جانب داری اور اس وقت کے وزیراعظم ایمون ڈی ویلیرا کی جانب سے ایڈولف ہٹلر کی موت کے بعد ڈبلن میں جرمن نمائندے سے تعزیت کرنے کا بھی حوالہ دیا۔

اس میچ میں اسرائیل میزبان ٹیم تھا، تاہم رواں ہفتے کے آغاز میں اس کے انعقاد پر شکوک پیدا ہوگئے تھے۔ آئرش کھلاڑیوں نے میچ کے بائیکاٹ کے دباؤ کے باوجود میچ کھیلنے کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔

صرف ایک کھلاڑی، گول کیپر گیون بیزونو، میچ سے دستبردار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم لوگوں کے قتل‘ کے باعث اس میچ یا 4 اکتوبر کو سربیا میں ہونے والے دوسرے مرحلے کے مقابلے میں شرکت کرنا ’غلط ہوگا‘۔

آئرش فٹ بال فیڈریشن نے میچ دیکھنے کے لیے شائقین کے لیے کوئی ٹکٹ مختص نہیں کیا تھا، جبکہ سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای کو یہ میچ کمنٹری کے بغیر نشر کرنا تھا۔

آئرلینڈ طویل عرصے سے فلسطینی مقصد کا مضبوط حامی رہا ہے، جس کی ہمدردی کو اکثر برطانوی حکمرانی کے اپنے تاریخی تجربے سے جوڑا جاتا ہے۔

ڈبلن نے 2024 میں سپین اور ناروے کے ساتھ مل کر باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور غزہ تنازع پر اسرائیل کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل اس الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہے کہ غزہ میں اس کے اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ