پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے منگل کو طالبان حکام پر اپنی ’مسلح سوچ‘ تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، تاہم اسے پڑوسی ملک سے مسلسل پیدا ہونے والے عسکریت پسندوں کے خطرے پر تشویش ہے۔
عطا تارڑ کا یہ بیان رواں ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں ان ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جنہیں اسلام آباد نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے قرار دیا تھا تاہم کابل کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں تین شہری مارے گئے۔
فضائی حملوں سے قبل پاکستان میں عسکریت پسندوں کے مہلک حملے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں، خاص طور پر ملک کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں، جن میں درجنوں شہری، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے۔
اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ امن پر یقین رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے پرامن طور پر ساتھ رہنے کو یقینی بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان سے اعلیٰ سطح کے مختلف وفود افغانستان گئے تاکہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی قائم ہو۔‘
عطا تارڑ کے بقول: ’لیکن کیا افغانستان کی جانب سے امن کے حصول کی خواہش موجود ہے؟ بدقسمتی سے جواب نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان عبوری حکومت کو اپنی مسلح سوچ سے نکل کر ایک ریاستی رہنما یا ریاست کی سوچ اپنانا ہوگی۔‘
اسلام آباد افغانستان پر عسکریت پسند گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، سے آنکھیں بند رکھنے کا الزام عائد کرتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ گروہ افغانستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں اور پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اسلام آباد کا اندرونی معاملہ ہے۔
اقوام متحدہ کی نگرانی سے متعلق رپورٹس میں افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کی دستاویزات سامنے آئی ہیں۔
رواں سال جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کسی بھی رکن ملک نے طالبان حکام کے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی کہ ملک میں کوئی عسکریت پسند گروہ موجود نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم سب سے بڑے گروہوں میں شامل ہے اور اسے وہاں عملاً حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور حمایت حاصل ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان مسلسل افغان طالبان حکام سے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ’قابل تصدیق‘ کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تقریباً 2,600 کلومیٹر (1,600 میل) طویل سرحد ہے۔
21 ستمبر کو پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد رواں ماہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار کارروائیاں ہوئیں۔
جمعرات کو اسلام آباد کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ افغانستان سے ڈرونز نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، پاکستان نے افغانستان میں مزید 10 مقامات کو نشانہ بنایا۔
یہ کارروائیاں 18 ستمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک پولیس کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد ہوئیں، جس میں حکام کے مطابق 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد جان سے گئے۔
حافظ گل بہادر کی قیادت میں ایک عسکریت پسند دھڑے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ہفتے کو ٹی ٹی پی نے ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں ایک کسٹمز چیک پوسٹ کے قریب حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان اور خطے میں خوشحالی صرف امن کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہم نے وسطی ایشیائی ریاستوں سے اپنے معزز دوستوں کے ساتھ مختلف نشستیں کی ہیں۔ میرے خیال میں خطے میں امن کے حصول اور تجارت کو فروغ دینے کی خواہش موجود ہے۔ اس نکتے پر اتفاق رائے ہے۔‘
ان کے بقول: ’واحد مسئلہ افغانستان میں امن کا ہے۔ اور یہ امن اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب افغان عبوری حکومت اس مسئلے کو سمجھے اور نیک نیتی کے ساتھ اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے۔‘

