لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران کی نااہلی، سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان

2433372 wastemanagement 1674749609



لاہور:

پنجاب اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کے اجلاس میں لاہور ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ پر غور کیا گیا۔

رپورٹ میں افسران کی نااہلی کے باعث سرکاری خزانے کو 73 ملین سے زائد کے نقصان اور ویسٹ منیجمنٹ کی جانب سے 175 ملین کی زائد قیمت پر سامان خریدنے کا انکشاف ہوا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ویسٹ منیجمنٹ کی جانب سے ناتجربہ کار ٹھیکیداروں کو ملی بھگت سے ٹھیکے دینے کا بھی انکشاف ہوا۔ کمیٹی نے آڈٹ کے دوران ایل ڈبلیو ایم سی کے افسران کی جانب سے تاخیر کے حربوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

کمیٹی کے ایک رکن پی آئی سی نے کہا کہ اگر ایک افسر محکمے کا ستیاناس کرکے دوسرے محکمے میں چلا جائے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کمیٹی کے سامنے شرمندگی کا اظہار کیا۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے کہا کہ میں شرمندگی کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا، آئندہ میں خود بیٹھ کر آڈٹ پیرا مکمل کروں گا۔

واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کے اجلاس کی صدارت رکن اسمبلی تنویر اسلم ملک نے کی، جبکہ دیگر ممبران کمیٹی اور افسران نے بھی شرکت کی۔





Source link

متعلقہ پوسٹ