امریکی ریاست کیلیفورنیا میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کو ریاستی قانون میں باقاعدہ طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔
گورنر گیون نیوسم نے اسمبلی بل AB 2017 پر دستخط کردیے، جس کے بعد دونوں اسلامی تہوار ریاستی قانون کا حصہ بن گئے ہیں۔
یہ قانون ریاست میں مقیم مسلم کمیونٹی کے لیے عیدین کے موقع پر چھٹی کے انتظام کو آسان بناتا ہے۔ قانون کے تحت اہل ریاستی ملازمین اپنی پہلے سے دستیاب چھٹی کا استعمال کرکے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ منا سکیں گے۔
اس کے علاوہ مقامی معاہدوں کے تحت سرکاری اسکول اور کمیونٹی کالجز بھی عید کے موقع پر تعطیل کرسکتے ہیں۔ یوں عیدین کو ریاستی قانون میں باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کے تمام نجی ادارے لازماً ان دنوں بند رہیں گے۔
اس قانون کی منظوری کو کیلیفورنیا کی مسلم کمیونٹی کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی کیلیفورنیا شاخ نے کہا کہ ریاست میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور عیدین کے موقع پر مذہبی فرائض کی ادائیگی اور اسکول یا ملازمت پر حاضری کے درمیان پیدا ہونے والا مسئلہ طویل عرصے سے موجود تھا۔
یہ بل ریاستی اسمبلی کے رکن میٹ ہینی نے پیش کیا تھا۔ کیلیفورنیا کے گورنر کے دفتر کے مطابق AB 2017 پر 27 ستمبر 2026 کو دستخط کیے گئے۔
اس قانون کے بعد کیلیفورنیا میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کو ریاستی سطح پر باضابطہ شناخت حاصل ہوگئی ہے، جبکہ چھٹی کے عملی انتظامات ملازمت، اسکول اور مقامی اداروں کے قواعد کے مطابق ہوں گے۔

