ملک کی بڑی مزدور فیڈریشنز اور یونینز نے پاکستان کے سب سے بڑے مزدور اتحاد ٹریڈ یونینز کنفیڈریشن آف پاکستان کے قیام اور مزدوروں پر ہونے والے جبر، استحصال اور بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف بھرپور مزاحمت کے عزم کے ساتھ 20 اکتوبر کو ملک بھر میں مزدور ایکشن ڈے منانے کا اعلان کردیا۔
کراچی پریس کلب میں مزدوروں کی نئی تنظیم ٹریڈ یونینز آف کنفیڈریشن آف پاکستان کے نمائندوں نے پریس کانفرنس میں کی، جن میں ناصر منصور، زہرا خان، اسد محمود، سجاد حسین گردیزی، نیاز خان، حنیف رامے، رفیق بلوچ، دارا ظفر، گل شیر شر، سید مظہر بخاری، عبدالرزاق میمن، لال بخش لالن، غلام محبوب اور ضیا سید شامل تھے۔
مزدور رہنماؤں نے بتایا کہ پاکستان ورکرز فیڈریشن، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان، وطن دوست مزدور فیڈریشن، پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، پاکستان فیڈریشن آف ٹرانسپورٹ ورکرز، آل پاکستان یونائیٹڈ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن پاکستان، آل پاکستان ہوٹلز ورکرز فیڈریشن، متحدہ لیبر فیڈریشن، اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز پاکستان، سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین اور آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائز کنفیڈریشن پر مشتمل 12 مزدور تنظیمیں اس اتحاد کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دو روزہ مشترکہ اجلاس میں کنفیڈریشن کے قیام کی باضابطہ منظوری دی گئی، اجلاس نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے صدر رفیق بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں 15 رکنی وفاقی کوآرڈینیشن کمیٹی کا انتخاب کیا گیا جبکہ ناصر منصور کو وفاقی سیکریٹری کوآرڈینیشن کمیٹی منتخب کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متنبہ کیا گیا کہ مزدوروں سے متعلق کسی بھی پالیسی یا قانون کو ملک کے سب سے بڑے مزدور اتحاد سے مشاورت کے بغیر مسلط کرنے کی کوشش کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، ان رہنماؤں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ صنعتی امن اور پائیدار ترقی کے لیے پنجاب لیبر کوڈ کو مسلط کرنے کے بجائے حکومت سندھ کی طرح اس پر بامعنی مشاورت کا عمل شروع کیا جائے۔
ان رہنماؤں نے کہا کہ حکمران طبقے کی پالیسیوں کے نتیجے میں محنت کش طبقے کی زندگی جہنم سے بدتر ہو چکی ہے، ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں گروی رکھ کر 25 کروڑ انسانوں کو معاشی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے، ملک کی نصف آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، بجلی، گیس، پانی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات عام مزدور کی آمدن کا 40 فیصد سے زائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ داروں نے کارخانوں کو عقوبت خانوں میں تبدیل کر دیا ہے، سرکاری اجرتوں، سماجی تحفظ، پنشن اور یونین سازی جیسے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، غیر قانونی ٹھیکہ داری نظام جدید غلامی کی شکل ہے، پلیٹ فارم، ہوم بیسڈ، زرعی، ہوٹل، مائن اور رائس ملز ورکرز سوشل سیکیورٹی اور پنشن سے محروم ہیں، پنشن کو کم از کم اجرت کے مساوی کیا جائے۔
کنفیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ ٹھیکہ داری نظام کا خاتمہ، لیونگ ویج کا اجرا، یونین سازی اور اجتماعی سودے کاری کے حق کو تسلیم، تمام ورکرز کی سوشل سیکیورٹی اور پنشن میں رجسٹریشن، نج کاری کا عمل روکنے، کام کی جگہوں پر تحفظ، خواتین کو ہراسانی سے تحفظ، پنجاب لیبر کوڈ واپسی، اجرتوں کی چار کیٹیگریز بحالی، ریلوے میں ریفرنڈم، برطرف ورکرز اور صحافیوں کی بحالی، نویں ویج ایوارڈ کی تشکیل، پیکا جیسے قوانین کا خاتمہ، نیوز پیپر ایمپلائز کنڈیشنز آف سروس ایکٹ 1973 پر عمل درآمد اور تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی یقینی بنائی جائے۔
Source link

