(ویب ڈیسک) فرانس میں سکولوں کے سٹوڈنٹس کا احتجاج پیرس سے پورے ملک میں پھیل گیا۔ پولیس نے چار سو افراد کو تشدد میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ احتجاج کے دوران تشدد میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سکولوں کے پرنسپل، ٹیچر بھی شامل ہیں۔
پیرس میں سکولوں کے سٹوڈنتس نے "سکولوں میں خراب حالات” پر احتجاج شروع کیا تو کچھ ہی دیر میں یہ احتجاج طلبہ کا احتجاج تشدد کی طرف چلا گیا۔ احتجاج کرنے والے سٹوڈنٹس نے گاریوں کو نقصان پہنچایا، آگ لگائی اور پتھراؤ کیا۔
تتشدد شدت اختیار کرگیا تو پیرس کی پولیس نے گرفتاریاں شروع کیں اور چار سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا جن کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تشدد میں ملوث ہیں۔
فرنچ میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ احتجاج سکولوں میں ٹیچرز کی قلت، سٹوڈنٹس کی تعداد زیادہ ہونے اور سہولتوں کی کمی جیسے مسائل پر شروع کیا گیا تھا۔ احتجاج کرنے والوں کو بعض سکولوں کی عمارات خستہ حال ہونے جیسی شکایتیں بھی تھیں۔

احتجاج کرنے والے سٹوڈنٹس نے کہا کہ سکولوں میں کلاسز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ ہوتے ہیں۔ ٹیچرز کی کمی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے طویل اوقاتِ کار اور بعض سکولوں میں کلاس رومز میں گرمی نے بھی سٹوڈنٹس کے بقول ان کو احتجاج کرنے پر مجبور کیا۔
مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، سڑکوں پر آگ لگائی گئی۔ گاریوں کو نقصٓن پہنچایا گیا جس کے بعد پولیس نے گرفتاریاں شروع کر دیں۔

تشدد کے واقعات میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے سینکڑوں لڑکوں اور لڑکیوں کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس سٹیشنوں میں بند کئے گئے لوگوں میں زیادہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی حکام نے ڈیڑھ سو اسرائیلی شہریوں کی ساڑھے چار گھنٹے مہمان نوازی کی
فرانس میں کل جمعرات کو حکومت اپنا 2027 کا بجٹ پیش کرے گی جس میں حکومتی مالیات پر دباؤ کم کرنے کے لیے اخراجات میں کٹوتی کا امکان ہے۔

فرانس کے وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے صحافیوں کو بتایا کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک طلبہ اور سکولوں کے عملے سمیت 119 افراد زخمی ہوئے ہیں اور متاثرہ عملے میں کئی سکولوں کے پرنسپل اور ٹیچر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: کم عمر بچی کا ریپ؛ دہلی کی لڑکیوں میں عدم تحفظ اور غصہ گلوبل نیوز بن گیا

