
(ویب ڈیسک) امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں 36 سالہ خاتون نے شریکِ حیات کی تلاش کیلئے روایتی ڈیٹنگ ایپس کے بجائے ایسا منفرد طریقہ اختیار کیا جو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
ارین پیٹرسن نے ’ہسبینڈ ایپلی کیشن‘ کے نام سے ایک گوگل فارم تیار کیا اوراسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے ساتھ اپنی پروفائل پر بھی پن کردیا،خاتون کے اس منفرد انداز نے جلد ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرلی اور فارم سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق اب تک 240 سے زائد امیدواروں نے ارین پیٹرسن کے تیار کردہ فارم میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
گوگل فارم میں ممکنہ شریکِ حیات سے متعلق مختلف سوالات شامل کیے گئے ہیں جن کے ذریعے خاتون امیدواروں کو بہترطورپرجاننے کی کوشش کررہی ہیں۔
امیدواروں سے مختلف سوالات
فارم میں امیدواروں سے ان کے کیریئر کے عزائم، روزمرہ معمولات، ذاتی عادات، شادی کے بارے میں خیالات، خاندانی زندگی سے متعلق توقعات اورمستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سوالات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ امیدواروں کو اپنی ترجیحات بیان کرنے اورایسی چیزوں کے بارے میں بھی بتانے کا موقع دیا گیا ہے جن پروہ کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔
غیر سنجیدہ افراد کو شروع میں ہی الگ کرنے کی کوشش
ارین پیٹرسن کا کہنا ہے کہ روایتی ڈیٹنگ ایپس پروقت ضائع ہونے کے باعث انہوں نے یہ منفرد طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا تاکہ غیرسنجیدہ افراد کو ابتدائی مرحلے میں ہی الگ کیا جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسے شریکِ حیات کی تلاش میں ہیں جو ذہین، مہربان، وفادار اور فیاض ہو۔
خاتون کے مطابق ’ہسبینڈ ایپلی کیشن‘ بنانے کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا نہیں بلکہ ممکنہ شریکِ حیات کے بارے میں پہلے ہی بنیادی معلومات حاصل کرنا بھی ہے، تاکہ تعلق کو آگے بڑھانے سے قبل دونوں کی ترجیحات اور توقعات میں مطابقت کا اندازہ لگایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں : 30 لاکھ لٹر پیداوار، 70 لاکھ لٹر فروخت؛ تب بھی کسی نے دودھ کی قیمت بڑھائی تو بڑا دھماکہ ہو گا

