لندن — اسکاٹش گرینز نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین ایکشن گروپ پر عائد پابندی واپس لے اور آزادیٔ اظہار و پُرامن احتجاج کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
پارٹی کی ترجمان میگی چیپ مین نے کہا کہ جن لوگوں نے غزہ کی صورتحال پر آواز اٹھائی، مارچ کیا اور منظم ہوئے، انہیں سنا جانا چاہیے اور ان کے حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے اس بیان کو سراہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ان لاکھوں لوگوں کی آواز سن رہی ہے جو فلسطینی عوام کی حالتِ زار سے متاثر اور مشتعل ہیں۔
چیپ مین کا کہنا تھا کہ اگر لیبر حکومت فلسطین کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے فلسطین ایکشن پر پابندی ختم کرنی ہوگی، ورنہ یہ اعتراف کھوکھلا محسوس ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی تمام فروخت پر پابندی عائد کرنے اور برطانیہ کو فلسطینی عوام کے جبر میں مزید شریک ہونے سے روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
فلسطین ایکشن پر 5 جولائی 2025ء کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ہائی کورٹ نے فروری میں اس پابندی کو غیر متناسب اور غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم کورٹ آف اپیل نے گزشتہ ماہ اس فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے پابندی برقرار رکھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی برطانیہ میں پُرامن احتجاج کے خلاف کارروائیوں پر تنقید کی ہے اور پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

