توانائی بحران: حکومت کا مارکیٹیں جلد بند کرنے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور

IMG 20260404 WA0491


اسلام آباد —
مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان میں توانائی بحران کے خدشات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں مارکیٹیں جلد بند کرنے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدرِ مملکت کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اجلاس میں کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت مارکیٹوں کو معمول سے پہلے بند کرنے کی باضابطہ تجویز پیش کی گئی۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو مارکیٹیں مقررہ وقت سے پہلے بند کر دی جائیں گی، تاہم شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اجلاس میں ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر بھی مشاورت کی گئی، جس کا مقصد توانائی کی کھپت کو کنٹرول میں رکھنا اور کسی ممکنہ سنگین بحران سے قبل از وقت نمٹنا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے اثرات پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ