اتراکھنڈ پولیس نے ہندوتواوی بھیڑ کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کو گرفتار کیا

1790973199 Capture 1


دیپک کمار۔ (فائل فوٹو، بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

’محمد‘ دیپک کی گرفتاری مبینہ طور پر اجین کی شاہی مسجد سے متعلق حالیہ تنازعہ کے حوالے سے فیس بک پوسٹ کو لے کر دیپک اور ایک کاروباری سنجیو ٹونک کے درمیان ہونے والی بحث کے بعد عمل میں آئی ہے۔ اس تنازعہ کو مبینہ طور پر دیپک کی جانب سے دی گئی دھمکیوں اور ’ہندو سماج‘ کے بارے میں کیے گئے مبینہ توہین آمیز تبصرے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

نئی دہلی: اتراکھنڈ پولیس نے ایک کاروباری سنجیو ٹونک کی شکایت کی پر کوٹ دوار کے دیپک کمار، جنہیں ’محمد دیپک‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو گرفتار کیا ہے۔

معلوم ہو کہ 42 سالہ دیپک نے 2026 کے یوم جمہوریہ کے موقع پر ایک بزرگ مسلم دکاندار کو اپنی دکان کے نام میں ’بابا‘ کا لفظ استعمال کرنے پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے ہندوتوا دی کارکنوں کا سامنا کیا تھا۔

جمعرات (1 اکتوبر) کو دیپک کی گرفتاری مبینہ طور پر اجین کی شاہی مسجد سے متعلق حالیہ تنازعہ کے حوالے سے فیس بک پوسٹ کو لے کر دیپک اور ٹونک کے درمیان ہوئی بحث کے بعد عمل میں آئی ہے۔ اس تنازعہ کو دیپک کی جانب سے مبینہ دھمکیوں اور ’ہندو سماج‘ کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصروں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

ایک نیوز ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے اور سوشل میڈیا پر نشر ہو رہے ایک دوسرے ویڈیو میں مبینہ طور پر دیپک اور ایک دوسرے شخص کو بحث کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کی پہچان مقامی کاروباری کے طور پر کی گئی ہے۔ شروعات میں دیپک کو جائے وقوعہ پر تین دیگر لوگوں سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن بعد میں دونوں کے درمیان بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد دونوں کیمرے سے دور چلے جاتے ہیں۔

ایکس پر موجود ایک ویڈیو کا اسکرین شاٹ، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1 اکتوبر 2026 کو کوٹ دوار میں محمد دیپک، سنجیو ٹونک سے بحث کر رہے ہیں۔

اس کے بعد بڑی تعداد میں مقامی کاروباری کوتوالی تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور دیپک کے خلاف کڑی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، شروعات میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 351(2) (مجرمانہ دھمکی) اور دفعہ 352 (امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنا) کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ جانچ  کے دوران انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دستیاب تصویروں  اور ویڈیو کا جائزہ لیا، جس کے بعد بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 196 (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور دفعہ 115 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) بھی شامل کی گئیں۔

پوڑی پولیس نے ایک بیان میں کہا، ’پہلی نظر میں شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کے ساتھ گالی گلوچ کی اور اسے دھمکی بھی دی۔‘

پولیس نے کہا کہ جانچ کے دوران ماضی میں بھی دیپک کی ’مختلف سماجی جھگڑوں‘ میں مبینہ شمولیت کا پتہ چلا، جس نے ’علاقے کے امن وامان اورلاء اینڈ آرڈرکو متاثر کیا تھا۔‘

پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں لوگوں کے اکٹھا ہونے اور ’کشیدہ ماحول‘ پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری ملی تھی۔

بیان میں کہا گیا، ’دستیاب شواہد، ملزم کی سرگرمیوں اور علاقے میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہونے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے، کوٹ دوار پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کی اور دیپک عرف اکی عرف محمد دیپک کو بی این ایس ایس کی دفعہ 170 کے تحت گرفتار کیا۔‘

بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا(بی این ایس ایس)کی دفعہ 170 کے تحت احتیاطی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ یہ اس وقت لاگو ہوتی ہے جب پولیس کے پاس یہ یقین کرنے کی وجہ ہو کہ کوئی شخص کسی قابل دست اندازی پولیس جرم کے ارتکاب کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس جرم کو کسی اور طریقے سے روکا نہیں جا سکتا۔

خبروں کے مطابق، اس واقعہ کے بعد دیپک کو گرفتار کر لیا گیا اور کوٹ دوار میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔

اگست میں سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ میں دیپک کے خلاف درج ایک پرانے ’دنگا‘ کے معاملے میں چل رہی کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ یہ معاملہ مبینہ طور پر ہندوتوا دی کارکنوں کے ساتھ ان کی جھڑپ کے بعد درج کیا گیا تھا۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ کوئی مسلمان شخص ’بابا‘ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا۔ جب بھیڑنے دیپک سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے کہاتھا، ’محمد دیپک۔‘

اس کے بعد مبینہ طور پر ایک اور بڑی بھیڑ مسلمان دکاندار کے حق میں کھڑے ہونے کی وجہ سے دیپک پر حملہ کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئی تھی۔ دیپک نے اپنی شکایت میں امن سویدیا، سدھانت بڈونی، بھوپی چودھری اور دیگر لوگوں کے نام دیے تھے، لیکن ریاستی پولیس نے امن وامان میں خلل ڈالنے کے الزام میں نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ مبینہ طور پر ایک اور بھیڑ 3 جنوری کو ان کے جم کے باہر بھی جمع ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ نے 20 مارچ کے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس آرڈر پر بھی روک لگا دی تھی، جس کے تحت دیپک کو اس واقعہ اور معاملے سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے دیپک کی پولیس سکیورٹی فراہم کرنے، انہیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کرانے سے متعلق درخواستیں خارج کر دی تھیں۔ ہائی کورٹ نے ان پر اس معاملے کو ’سنسنی خیز بنانے‘ کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ