ریاض، سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے طیبہ بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن پر ڈرون حملے کے بعد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور متعدد عرب ممالک نے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حملہ 29 ستمبر کی صبح کیا گیا اور اس میں حوثی ملیشیا کا ڈرون استعمال ہوا۔ ان کے مطابق ڈرون حملے سے اسٹیشن کا ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم بجلی کے مجموعی نظام اور مسجد نبوی ﷺ کو بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔
المالکی نے بتایا کہ ڈرون کے ملبے کے معائنے، آپریشنل معلومات اور تحقیقات کے بعد حوثی ملیشیا کے حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے اس الزام پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
او آئی سی نے حملے کو ’’خطرناک کشیدگی‘‘ اور مقدس مقامات کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور اسلامی مقدس مقامات کے قریب تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
متحدہ عرب امارات، اردن، کویت اور بحرین نے بھی حملے کی مذمت کی۔ ان ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا۔
کویت نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیب کو نشانہ بنانا شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف دشمنانہ کارروائی ہے، جبکہ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حوثیوں کے حملوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
سعودی اتحاد نے اس سے قبل 15 ستمبر کو بھی دعویٰ کیا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کردیا تھا۔

