سینٹرل دہلی میں مظاہرین کی بھیڑ میں اضافہ؛ ’یوگیندر یادو، نہا بورا سمیت کئی لوگ حراست میں‘، مارپیٹ کا الزام

Jantar Mantar 2.0


جنتر منتر کےارد گرد احتجاج کرتے مظاہرین۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بھاکپا (مالے) نے الزام لگایا ہے کہ نہا بورا، یوگیندر یادو، نکھل ڈے سمیت کئی دیگر مظاہرین کو پولیس نے پیٹا اور حراست میں لیا۔ پارٹی نے دہلی پولیس کے ڈی سی پی سچن شرما پر خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ اور بد سلوکی کا الزام بھی لگایا ہے۔

نئی دہلی:گاندھی جینتی (2 اکتوبر) کے موقع پر دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ہو رہے احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے ہیں۔

احتجاجی مقام تک پہنچنے کے تمام راستوں کو سکیورٹی فورسز کی موجودگی اور بھاری بیریکیڈنگ کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے تمام راستوں پر بھاری بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچنے والے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیامنٹ، رہنماؤں اور دیگر لوگوں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

تاہم، پولیس کی کارروائی اور حراست کے باوجود لوگوں کی بھیڑ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے جنتر منتر کی طرف جانے سے روکے جانے کے بعد سینٹرل دہلی اور کناٹ پلیس کے علاقے میں مظاہرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ پولیس نے کناٹ پلیس کے علاقے سے کئی مظاہرین کو حراست میں لے کر بسوں میں بٹھایا اور انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔

دریں اثنا، بھاکپا (مالے) نے الزام لگایا ہے کہ نہا بورا، یوگیندر یادو، نکھل ڈے سمیت کئی دیگر مظاہرین کو پولیس نے مارا اور حراست میں لیا۔ پارٹی نے دہلی پولیس کے ڈی سی پی سچن شرما پر خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

بھاکپا (مالے) نے کہا،’ڈی سی پی سچن شرما خود جنتر منتر پر خواتین مظاہرین کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں۔‘

پارٹی نے ایک اور بیان میں کہا،’یہ شرمناک ہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر پر اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ نہا، یوگیندر یادو، نکھل ڈے اور کئی دیگر لوگوں کو جنتر منتر پر پیٹا گیااور حراست میں لیا گیا۔ ڈی سی پی سچن شرما خود مظاہرین کے ساتھ مارپیٹ کر رہے تھے اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کر رہے تھے۔‘

وہیں، عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ سنجے سنگھ کو پارلیامنٹ جانے سے روک دیا گیا تھا۔ تاہم، بعد میں انہوں نے ’ووٹ چوری‘کے خلاف پارلیامنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیا۔

سنجے سنگھ نے ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا،’میں ووٹ چوری کے خلاف پارلیامنٹ کے احاطے میں باپو کے مجسمے کے سامنے دھرنے پر بیٹھا ہوں۔ تاناشاہی کا خاتمہ ہوگا، مودی-گیانیش کو جانا ہوگا۔‘

دہلی پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کی رہنما آتشی کو بھی حراست میں لیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

پی ٹی آئی نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر کے احتجاجی مقام کے قریب تقریباً 150 مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کارکن بھی شامل ہیں۔ تاہم، اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اس دوران لوگ الگ الگ راستوں سے جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سخت سکیورٹی اور بیریکیڈنگ کے باعث احتجاجی مقام تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔ نئی دہلی کے 12میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی روک دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع میں تقریباً 4,000 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ