جموں وکشمیر کبھی انڈیا کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا: پاکستان

398851 1838223257


پاکستان نے جمعے کو ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کبھی انڈیا کا نام نہاد اٹوٹ انگ نہیں تھا، نہ ہے، اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ 

کشمیر کا مسئلہ، تقسیم برِصغیر کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک ایسے تنازعے کی صورت میں موجود ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان پانچ باقاعدہ جنگوں کی وجہ بن چکا ہے۔

پاکستان کشمیر کی متنازع حیثیت کا اعادہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈیا کے یکطرفہ اقدامات (جیسے آرٹیکل 370 کی منسوخی) کی مذمت کرتا آیا ہے۔ دوسری جانب انڈیا جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا ثالثی کو مسترد کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کی تیسری کمیٹی میں عام بحث کے دوران انڈین نمائندے کے بیان کے جواب میں پاکستان فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے کہا کہ انڈیا کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی اٹل قراردادوں پر عمل درآمد میں مسلسل ناکامی اور انکار کر کے اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا: ’انڈیا کو سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعے کو حل کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور اپنے غیر قانونی کنٹرول کے تحت  کشمریی عوام کے حقوق اور آزادیوں کو دبانا بند کرنا چاہیے۔‘

سرفراز احمد گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان جموں و کشمیر کے تنازعے کو نام نہاد اندرونی معاملہ قرار دینے کی انڈیا کی بے سود کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، اور اس کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ابھی باقی ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ان متعدد قراردادوں میں درج ہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘

پاکستانی سفارتی نمائندے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انڈین ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انڈین حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت میں مذہبی اقلیتوں بشمول مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد بھی عام اور منظم ہو چکا ہے۔ 

پاکستانی فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر کے بقول: ’آج انڈیا میں مذہب کی بنیاد پر تشدد، نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک اور عبادت گاہوں پر حملے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ریاستی سرپرستی میں صدیوں پرانی مساجد کو مسمار کیا جا رہا ہے۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی غلط بیانی، انکار یا الزام تراشی ان حقائق کو چھپا نہیں سکتی۔ دنیا کو بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اور انسانی حقوق کو سنگین حد تک پامال کرنے والے ایسے ملک سے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کے مطابق بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستانی پرعزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’علاقائی امن، سکیورٹی، استحکام اور جنوبی ایشیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے مفاد میں انڈیا کے لیے بھی یہی بہتر ہوگا کہ وہ اسی راستے پر چلے۔‘ 





Source link

متعلقہ پوسٹ