نیویارک/غزہ، 27 مارچ 2026: ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ Angelina Jolie نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔ جولی نے انسٹاگرام پر 26 سالہ فلسطینی خاتون کا درد بھرا خط شیئر کیا، جس میں جنگ کے دوران عام لوگوں، خصوصاً خاندانوں کو درپیش مشکلات کو دل سوز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
خط لکھنے والی خاتون، جو گولہ باری میں اپنے والد کو کھو چکی ہیں، اب اپنے مفلوج جڑواں بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خیمے میں زندگی گزار رہی ہیں۔ جولی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بچوں کی تصاویر اور خط کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، اور لکھا:
"خاتون نے مجھے بتایا کہ اس کے خاندان اور پڑوسیوں کے لیے روزمرہ زندگی کیسی ہے۔ ان کی مشکلات بدستور جاری ہیں، مگر دنیا کی توجہ دیگر سانحات کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔”
خط میں بنیادی ضروریات کی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے شدید حالات میں پانی لانا، خیراتی کچن سے کھانے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا، اور تعلیمی اداروں کی بندش۔ خاتون نے بتایا کہ بہت سے بچے یہ بھی بھول چکے ہیں کہ اسکول کیسا ہوتا ہے، قلم کیسے پکڑا جاتا ہے، یا کاپیوں میں رنگ کیسے بھرے جاتے ہیں۔ ان کے خواب اب صرف ایک لیٹر پانی یا ایک پلیٹ کھانے تک محدود ہو گئے ہیں۔

