جاپان میں منقعدہ ایشین گیمز 2026 دو ہفتے جاری رہنے کے بعد چار اکتوبر کو ختم ہو گئے ہیں۔ کھیلوں میں نوجوان کھلاڑیوں اور ایتھلٹس نے ریکارڈ توڑ کاکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ایشین گیمز کی ویب سائٹ پر درج نتائج کے مطابق چین سب سے زیادہ میڈل جیت کر پہلے نمبر پر رہا۔ چین نے مجموعی طور پر 341 میڈل جیتے جن میں سونے کے 169، چاندی کے 89 اور کانسی کے 83 میڈل شامل ہیں۔
تیراکی میں تہلکہ مچانے والی چین کی محض 13 سالہ یو زدی نے تین طلائی تمغے جیت کر پول میں میلہ لوٹ لیا، اور یہ سب گیمز کے ریکارڈ وقت میں حاصل کیے۔
17000 سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز، جو اولمپکس سے بھی بڑی تعداد ہے، براعظم کے کھیلوں کے سب سے شاندار میلے کے لیے ناگویا اور آئیچی پریفیکچر پہنچے۔
میڈل حاصل کرنے والوں میں جاپان کا دوسرا نمبر ہے۔ اس نے کل 269 تمغے حاصل کیے جن میں سونے کے 83، چاندی کے 95 اور کانسی کے 91 میڈل شام ہیں۔
تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ 150 میڈل حاصل کیے۔ اس نے سونے کے 39، چاندی کے 43 اور کانسی کے 168 میڈل جیتے۔
تمغوں کی دوڑ میں پاکستان 29 ویں نمبر پر رہا۔ وہ سونے کا کوئی تمغہ جیتنے میں ناکام رہا تاہم اس نے 10 میڈل جیتے جن میں دو چاندی اور کانسی کے آٹھ میڈل شامل ہیں۔
کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انڈیا کے ساتھ تھا تاہم ہفتے کو کھیلے گئے میچ میں انڈیا نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا جب کہ پاکستان کے حصے میں چاندی کا تمغہ آیا۔
ناقص انتظامات کا الزام
اے ایف پی کے مطابق انتظامی غلطیوں، شائقین کی کم اور غیر مستقل تعداد اور ناقص انتظام کے الزامات نے کھیلوں کا مزہ خراب کر دیا۔
اختتامی تقریب میں چند گھنٹے باقی ہیں جس میں جاپان ایشیائی کھیلوں کی میزبانی دوحہ کے حوالے کرے گا، لیکن اس دوران اعلیٰ حکام کو انتظامات پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرنا پڑا۔
اولمپک کونسل آف ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل حسین المسلم نے کہا کہ ’اعداد و شمار حقیقت بیان کرتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ 19 ستمبر کو کھیل شروع ہونے کے بعد سے 50 عالمی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’اگر کھلاڑی اچھی طرح نہ سوئیں اور انہیں آمدورفت کی اچھی سہولت نہ ملے تو وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔‘
ایشین گیمز کا یہ 20 واں ایڈیشن تھا۔ یہ کھیل پہلی بار 1951 میں منعقد ہوئے تھے۔ اخراجات بچانے کے لیے اس بار کھلاڑیوں کا روایتی گاؤں نہیں بنایا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بجائے کھلاڑیوں اور دیگر شرکا کو لکڑی کی عارضی رہائش گاہوں، ایک بحری تفریحی جہاز اور ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ مستقبل میں مختلف کھیلوں کے بڑے مقابلوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔
لیکن اس انتظام میں کئی مسائل سامنے آئے۔ بعض ٹیموں نے شکایت کی کہ عارضی رہائشی کمرے بہت تنگ اور بستر بہت چھوٹے تھے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کی تعداد توقع سے زیادہ بڑھ گئی، جس کی وجہ سے سب کے لیے بستر کم پڑ گئے۔

