اوہائیو، ): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے لیے بنائے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کے خلاف مہم تیز کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اے آئی کی عالمی دوڑ میں چین سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
اوہائیو کے وینڈالیا میں ۳؍ اکتوبر کو انتخابی ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا، "اوہائیو کے لیے بہت زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ آپ انہیں صرف بند نہیں کر سکتے، وہ چین چلے جائیں گے۔” انہوں نے ڈیٹا سینٹرز کو مقامی معیشت کے لیے آمدنی اور سرمایہ کاری کا ذریعہ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کے دفاع پر حاضرین کا ردعمل ان کی تقریر کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نسبتاً مدھم رہا۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے تعمیر کی مقامی سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بجلی کی بڑھتی طلب سے بجلی کے نظام، پانی کے وسائل، ماحول اور بعض علاقوں میں گھریلو صارفین کے اخراجات پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہ معاملہ اوہائیو کی انتخابی سیاست میں بھی اہم ہو گیا ہے۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن سے ہے۔ ہسٹڈ پر ریاست میں ڈیٹا سینٹرز لانے میں سابقہ عہدے کے دوران کردار ادا کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے، اور براؤن کی مہم نے بھی اسے ان کے خلاف استعمال کیا ہے۔ ہسٹڈ نے ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والے بجلی کے اخراجات سے نمٹنے کے لیے "ریٹ پیئر پروٹیکشن ایکٹ” پیش کیا تھا، جس کا مقصد ریاستی ریگولیٹرز کو اس معیار کی ترغیب دینا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز جیسے بڑے صارفین بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اضافی اخراجات خود برداشت کریں۔ ایوانِ نمائندگان نے یہ بل ۱۶؍ ستمبر کو ۴۱۷ کے مقابلے میں ۳ ووٹوں سے منظور کیا، تاہم سینیٹ میں ۳۰؍ ستمبر کو اسے ۵۷۔۴۳ ووٹ ملے اور درکار ۶۰ ووٹ حاصل نہ ہو سکے۔ ریپبلکن ارکان نے اسے صارفین کے تحفظ کی کوشش کہا، جبکہ کئی ڈیموکریٹس کے مطابق یہ بڑے صارفین پر ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کافی مضبوط نہیں تھا۔
عوامی رائے ٹرمپ کے موقف سے مختلف ہے۔ اکانومسٹ/یوگوو سروے کے مطابق صرف ۲۴ فیصد امریکیوں نے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو اچھی چیز قرار دیا، جبکہ ۴۷ فیصد نے بری چیز کہا۔ ۶۱ فیصد نے اپنی کمیونٹی میں نیا ڈیٹا سینٹر بنانے کی مخالفت کی اور ۶۲ فیصد کا کہنا تھا کہ اس سے بجلی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے اگست ۲۰۲۶ء کے سروے میں ۵۰ فیصد نے ڈیٹا سینٹرز کو گھریلو توانائی اخراجات کے لیے اور ۵۴ فیصد نے ماحول کے لیے زیادہ تر نقصان دہ قرار دیا، جبکہ صرف ۴ فیصد نے دونوں حوالوں سے مفید کہا۔
ایمیزون، مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا اور اوریکل کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ۲۰۲۶ء میں اے آئی انفراسٹرکچر پر مجموعی طور پر ۵۶۰ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کریں گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر میں قومی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً ۲ ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت ۲۶ ریاستوں میں ۳۱ منصوبوں کے ذریعے ۲۳ گیگاواٹ سے زیادہ اضافی صلاحیت کا ہدف ہے۔ مقامی مخالفین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اے آئی صنعت کے فوائد کے مقابلے میں بجلی، پانی، زمین اور بنیادی ڈھانچے کے اضافی اخراجات کون برداشت کرے گا۔

